احكام زنان


حیض احکام حائض نفاس
استحاضہ استحاضہ کی تین قسمیں ہیں احکام استحاضہ


حیض


حیض وہ خون ہے جو ہر مہینے چند روز عورت کے رحم سے خارج ہو تا ہے اور عورت کو اس زمانے میں حائض کہتے ہیں۔

مسئلہ٨٩:خون حیض اکثر اوقات گاڑھا، گرم اور سیاہ رنگ کا ہو تا ہے، اور کبھی سرخ بھی ہو تا ہے اور قوت اور جلن کے ساتھ آتا ہے۔

مسئلہ٩٠:وہ خون جو لڑکی کے نو/ ٩ سال ختم ہونے سے پہلے اور یائسہ ہونے کے بعد خارج ہو تو وہ حیض نہیں ہے۔

مسئلہ٩١:حیض کی مدت تین دن سے کم اور دس دن سے زیادہ نہیں ہو تی اور اگر تین دن سے مختصرسی مدت بھی کم ہو تو اس کو حیض نہیں کہتے۔

مسئلہ٩٢:وہ خون جو لڑکی کے نو سال کے ختم ہو نے سے پہلے یا عو رت کے یائسہ ہونے کے بعد آۓ تو وہ حیض نہیں ہے۔
مسئلہ٩٣:وہ لڑکی جسکو معلوم نہ ہو کہ اس کے نو /٩ سال پورے ہو گۓ ہیں یا نہیں اگر وہ خون دیکھے اور اس میں حیض کی علامتیں نہ ہوں تو وہ حیض نہیں ہے اور اگر اس میں حیض کی علامتیں ہوں تو وہ حیض ہے۔

احکام حائض


مسئلہ٩٤:چند چیزیں حائض پر حرام ہیں۔
١۔ وہ عبادتیں جن میں طہارت شرط ہے جیسے نماز، روزہ، طواف وغیرہ۔
٢۔ وہ تمام چیزیں جو مجنب پر حرام ہیں حائض پر بھی حرام ہیں۔
٣۔ حیض کے دنوں میں جماع کرنا مرد اور عورت دونوں پر حرام ہے، اگر چہ ختنہ کی مقدار ہی داخل ہوئ ہو اور منی بھی نہ نکلی ہو، لیکن حائض عورت کی دُبر میں جماع کرنا مکروہ ہے، مگر دوسری لذتیں حاصل کرنے میں کوئ حرج نہیں ہے۔

مسئلہ٩٥:حالت حیض میں عورت کو طلاق دینا صحیح نہیں ہے جس کا بیان کتاب طلاق میں آۓ گا۔

مسئلہ٩٦:پنجگانہ نمازیں جو حالت حیض میں نہیں پڑھی ہیں اُن کی قضاء نہیں ہے لیکن واجب روزوں کی قضا ضروری ہے۔

مسئلہ٩٧:اگر عورت نماز کے آخری وقت میں پاک ہو جاۓ اور اسے اتنا وقت مل جاۓ کہ وہ غسل و و ضوء اور نماز کے دوسرے مقدمات مثلاً لباس مہیّا کرنا اور پاک کرنے کا وقت ہو تو ایک رکعت یا ایک رکعت سے زیادہ کا وقت ہو تو نماز پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس کی قضاء بجا لاۓ اور اگر فقط ایک رکعت کی مقدار وضوء اور غسل کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز پڑھی جاۓ اور نہ پڑھنے کی صورت میں قضاء بجا لاۓ۔

مسئلہ٩٨:اگر عورت خون حیض سے پاک ہو جاۓ اگر چہ اس نے ابھی غسل بھی نہ کیا ہو تو اس کا شوہر اس سے جماع کر سکتا ہے ۔مگر احتیاط شدید یہ ہے کہ جماع سے پہلے شرمگاہ کو دھولے، اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل سے پہلے جماع نہ کرے۔

نفاس

مسئلہ١٠٥:ولادت کے وقت جب بچّے کا پہلا جز و شکم مادر سے باہر آۓ اور اسی کے ساتھ جو خون بھی جاری ہو اور وہ دس/١٠ دن سے پہلے یا دسویں دن منقطع ہو جاۓ تو وہ خون نفاس ہے اور عورت کو نفاس کی حالت میں نفساء کہتے ہیں۔

مسئلہ١٠٦:یہ ضروری نہیں ہے کہ بچّے کی خلقت پوری ہو بلکہ اگرعورت کے رحم سے خون کا لوتھڑا خارج ہو اور خود اس عورت کو معلوم ہو یا چار دائیاں کہیں کہ اگر رحم میں رہ جاتا تو انسان کی شکل اختیار کر لیتا ،کہ عام طور پر یہ کہا جاۓ کہ ساقط ہو گیا یہ عورت دس/١٠ دن تک جو خون دیکھے گی وہ نفاس ہے۔

مسئلہ١٠٧:وہ خون جو بچّے کے بدن کے پہلے جزو کے نکلنے سے پہلے عورت کو آجاۓ وہ نفاس نہیں ہے۔

مسئلہ١٠٨:ممکن ہے خون نفاس ایک لمحہ سے زیادہ نہ آۓ لیکن دس/١٠ دن سے زیادہ نہیں آتا۔

مسئلہ١٠٩:نفاس والی عورت تمام واجبات و محرمات میں حائض کی مثل ہے۔

مسئلہ١١٠:نفاس کی حالت میں عورت کو طلاق دینا صحیح نہیں ہے اور اس سے جماع کرنا بھی حرام ہے، اگر اس سے اس کا شوہر جماع کرے تو احتیاط مستحب یہ کہ احکام حیض میں بیان شدہ دستور کے مطابق کفّارہ دے۔

مسئلہ١١١:جب عورت خون نفاس سے پاک ہو جاۓ تو غسل کرے اور اپنی عبادتوں کو بجا لاۓ لیکن اگر پھر دوبارہ خون آجاۓ تو اگر خون آنے والے دن اوردرمیان کے پاک رہنے کے دن سب ملا کر دس/١٠ دن یا اس سے کم ہوں تو سب خون نفاس ہے اور اگر مدّت انقطاع میں اس نے روزہ رکھا ہو تو اس کی قضاء کرے۔

مسئلہ١١٢:اگر خون نفاس دس/٠١دن سے زیادہ جاری رہے تو عادت حیض کے دنوں کے مطابق نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور اگر عادت نہ ہو تو دس/١٠دن تک نفاس اور باقی استحاضہ ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ عادت والی عورت اپنی عادت کے بعد سے اور وہ عورت کہ جو عادت نہیں رکھتی پیدائش کے دسویں دن سے اٹھارویں دن تک استحاضہ کے امور کو انجام دے اور وہ کام جو نفساء پر حرام ہیں ترک کرے۔

استحاضہ

عورتوں کو جو خون آتے ہیں ان میں سے ایک کا نام استحاضہ ہے اور جس عورت کو یہ خون آۓ اس کو مستحاضہ کہتے ہیں۔
مسئلہ٩٩:خون استحاضہ اکثر اوقات زرد رنگ اور ٹھنڈا ہو تا ہے اور بغیر قوت و جلن کے نکلتا ہے اور گاڑھا بھی نہیں ہو تا لیکن ممکن ہے کبھی سیاہ یا سرخ گرم اور گاڑ ھا بھی ہو اور قوت و جلن سے بھی نکلے۔

استحاضہ کی تین قسمیں ہیں

مسئلہ١٠٠:استحاضہ کی تین قسمیں ہیں؛
(١) قلیلہ، (٢) متوسطہ، (٣) کثیرہ۔
استحاضہ قلیلہ؛وہ ہے کہ جب عورت روئ کو اپنی شرمگاہ میں داخل کرے تو خون صرف روئ کے ظاہری حصّے کو لگے اور اندر تک سرایت نہ کرے۔
استحاضہ متوسطہ؛و ہ ہے کہ روئ خون میں ڈوب جاۓ اگر چہ روئ کے کسی ایک حصّے ہی میں کیوں نہ ہو لیکن خون روئ سے بہہ کراوپر کی پٹّی پر جا ری نہ ہو۔
استحاضہ کثیرہ؛وہ ہے کہ خون روئ سے بہہ کر اس پٹّی تک پہنچ جاۓ جسے عورتیں خون روکنے کے لۓ باندھتی ہیں۔

احکام استحاضہ

مسئلہ١٠١:استحاضہ قلیلہ میں عورت ہر نماز کے لۓ وضوء کرے او ر روئ بدلے اور شرمگاہ کے ظاہری حصّے کو اگر خون لگا ہو تو پاک کرے۔

مسئلہ١٠٢:استحاضہ متوسطہ میں عورت کو نماز صبح کے لۓ غسل کرنا چاہیۓ اور دوسرے دن کی صبح تک ہر نماز کے لۓ وہی افعال انجام دے جو استحاضہ قلیلہ میں بیان کیے گۓ ہیں، اگر جان بوجھ کر یا بھولے سے نماز صبح کے لۓ غسل نہ کرے تو اسے نماز ظہر و عصر کے لۓ غسل کرنا چاہیۓ اور اگر ظہرین کے لۓ غسل نہ کرے تو اسے مغرب و عشاء سے پہلے غسل کر لینا چاہیۓ چاہے خون آ رہا ہو یا بند ہو گیا ہو۔

مسئلہ١٠٣:استحاضہ کثیرہ میں عورت متوسطہ کے تمام امور انجام دے، اس کے علاوہ وہ پٹّی جس پر خون لگا ہے ہر نماز کے لۓ بدلے یا اس کو پاک کرے، ایک غسل نماز ظہر و عصر کے لۓ اور ایک مغرب و عشاء کے لۓ بجا لاۓ اور ظہر و عصر کی نماز وں کے درمیان فاصلہ نہ دے اگر فاصلہ کر دے تو نماز عصر کے لۓ دوبارہ غسل کرے اور اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کے درمیان فاصلہ کردے توعشاء کے لۓ دوبارہ غسل کرے۔

مسئلہ١٠٤:استحاضہ متوسطہ اور کثیرہ والی عورت کو کہ جس کی تکالیف شرعی وضوء و غسل دونوں ہیں ان میں سے جسکو بھی پہلے بجا لاۓ صحیح ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے وضوء کرے۔