بَیتُ الُخَلاء کے احکام


بَیتُ الُخَلاء کے احکام استبراء  

 

بَیتُ الُخَلاء کے احکام

مسئلہ٦٧:ہر انسان پر واجب ہے کہ رفع حاجت کرتے وقت یا اس کے علاوہ دوسرے اوقات میں بھی اپنی شرمگاہ کو ہر بالغ انسان سے چھپاۓ اگر چہ وہ انسان ماں یا بہن کی طرح محرم ہی کیوں نہ ہو، اسی طرح دیوانہ اور اچھی بُری چیزوں کی تمیز رکھنے والے بچّے سے بھی چھپاۓ، لیکن شوہر اور زوجہ کا ایک دوسرے سے اپنی شرمگاہ کو چھپانا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ٦٨:شرمگاہ کو کسی مخصوص چیز سے چھپانا ضروری نہیں ہے بلکہ اگر ہاتھ سے بھی چھپالے تو کافی ہے۔

مسئلہ٦٩:پیشاب، پاخانہ کرتے وقت رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ نہیں بیٹھنا چاہیۓ۔

مسئلہ٧٠:اگر نا محرم سے چھپنے کی وجہ سے رو بہ قبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنے پر مجبور ہو جاۓ تو کوئ حرج نہیں ہے۔

مسئلہ٧١:پیشاب کے مقام کو پانی کے علاوہ کسی دوسری چیز سے پاک نہیں کرسکتے، آب کرُ یا جاری میں پیشاب کے زائل ہونے کے بعد ایک مرتبہ دھونا کافی ہے لیکن احتیاط واجب کی بنا پر آب قلیل سے دو مرتبہ دھویا جاۓ البتّہ بہتر یہ ہے کہ تین مرتبہ دھویا جاۓ۔

مسئلہ٧٢:اگر نماز پڑھنے کے بعد شک کرے کہ نماز سے پہلے پیشاب یا پاخانے کے مقام کو پاک کیا تھا یا نہیں تو جو نماز پڑھ چکا ہے وہ صحیح ہے لیکن دوسری نمازوں کے لۓ پاک کرنا ضروری ہے۔

استبراء

مسئلہ٧٣:استبراء وہ مستحب عمل ہے جو مرد پیشاب کرنے کے بعد انجام دیتے ہیں تاکہ یقین ہو جاۓ کہ پیشاب نالی میں باقی نہیں رہا،اور اسکے کئ طریقے ہیں۔سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد اگر پا خانے کا مقام نجس ہو گیا ہے تو پہلے اس کو پاک کرے پھر بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی سے پاخانے کے مقام سے لے کر عضو تناسل کے نیچے تک تین مرتبہ کھینچے اس کے بعد انگوٹھے کو عضو تناسل کے اوپر اور اسکے ساتھ والی انگلی کو عضو تناسل کے نیچے رکھ کر تین مرتبہ ختنہ کی جگہ تک کھینچے پھر مرتبہ عضو تناسل کے سر کو دباۓ۔

مسئلہ٧٤:اگر انسان پیشاب کرنے کے بعد استبراء کرے اور اس کے بعد کوئ رطوبت خارج ہو اور انسان یہ شک کرے کہ یہ پیشاب ہے یا اُن تین رطوبتوں (مذی ، وذی ، ودی) میں سے کوئ ایک ہے تو وہ پاک ہے۔