|
مسئلہ١٢٠:احتیاط واجب یہ ہے کہ جب تک غسل میّت تمام نہ ہو جاۓ اسے رو بہ قبلہ لٹاۓ رہیں لیکن غسل ختم ہونے کے بعد بہتر ہے کہ اسے اس طرح لٹا دیں جیسے نماز میّت پڑھتے وقت لٹاتے ہیں۔ مسئلہ١٢١:مستحب ہے کہ وہ شخص جو سخت جانکنی کے عالم میں ہو اور اسے تکلیف نہ ہو تو اسے اس جگہ پر لے جائیں جہاں وہ نماز پڑھا کرتا تھا۔ مسئلہ١٢٢:مستحب ہے کہ محتضر کو آرام پہنچانے کے لۓ اس کے سرہانے سورۂ مبارکہ ’’یٰس‘‘ ’’والصّافات‘‘ ’’احزاب‘‘ ’’آیت الکرسی‘‘،سورۂ’’اعراف‘‘کی چوّنویں آیت اور سورۂ’’بقرہ‘‘کی آخری تین آیتوں کی تلاوت کی جاۓ بلکہ جتنا بھی ممکن ہو قرآن پڑھا جاۓ۔ مسئلہ١٢٣:محتضر کو اکیلا چھوڑنا، اسکے پیٹ پر کوئ چیز رکھنا، اس کے قریب
مجنب یا حائض کا رہنا، رونا ، عورتوں کو محتضر کے نزدیک تنہا چھوڑنا مکروہ
ہے اور بعض کتابوں میں محتضر کے نزدیک زیادہ باتیں کرنے کو بھی مکروہ جانا
گیا ہے۔
مسئلہ١٢٤:مرنے کے بعد مستحب ہے کہ میّت کی آنکھوں اور
ہو نٹوں کو بند کردیا جاۓ اور ٹھڈی کو باندھ دیا جاۓ اور اسکے ہاتھ پاؤں کو
سیدھا کردیا جاۓ۔اور اس پر ایک کپڑا ڈالدیا جاۓ او راگر رات کو مرا ہے تو
جہاں پر مرا ہے وہاں چراغ روشن کر دیا جاۓ اور اس کے جنازے کی تشیع کے لۓ
مومنین کو اطلاع دی جاۓ اور دفن کرنے میں جلدی کی جاۓ لیکن اس کے مرنے کا
یقین نہ ہوا ہو تو اتنا ٹھہریں کہ یقین ہو جاۓ اور اگر میّت حاملہ ہو اور
بچہ اس کے پیٹ میں زندہ ہو تو اس کے دفن کرنے میں اتنی تاخیر کریں کہ اس کے
بائیں پہلو کو چاک کرکے بچّے کو نکال لیں اور پھر پہلو کو سی دیں۔
مسئلہ١١٣:اگر کوئ شخص مردہ انسان کے جسم کو جو سرد ہو چکا ہو اور اسے ابھی غسل نہ دیا گیا ہو مس کرے یعنی اپنے جسم کے کسی حصّے کو اس سے متصل کرے تو غسل مس میّت اس پر واجب ہے خواہ سوتے میں مس کرے یا بیداری میں، اپنے اختیار سے مس کرے یا مجبور ہو کر یہاں تک کہ اگر اس کے ناخن اور ہڈّی مردے کے ناخن یا ہڈّی سے مس ہوں تو بھی غسل کرے لیکن اگر کسی مردہ حیوان کو مس کرے تو غسل واجب نہیں ہے۔ مسئلہ١١٤:وہ مردہ جس کا پورا بدن ابھی سرد نہیں ہوا ہے اس کے مس کرنے پر غسل واجب نہیں ہو گا اگر چہ اس کے جسم کے اس حصے کو مس کیا جاۓ جو سرد ہو چکا ہو۔ مسئلہ١١٥:وہ بچہ جو ماں کے مرنے کے بعد پیدا ہوا ہو اگر ولادت کے وقت اسکی ماں کا بدن سرد ہو گیا تھا تو بالغ ہونے کے بعد اس کو غسل مس میّت کرنا چاہیۓ۔ مسئلہ١١٦:اگر انسان اس میّت کو مس کرے جسکو تینوں غسل دیۓ جا
چکے ہوں تو اس پر غسل واجب نہیں ہو تا لیکن اگر میّت کا تیسرا غسل تمام ہونے سے
پہلے اس کے جسم کے کسی حصّے کو مس کرے تو اگر چہ اس حصّے پر تیسرا غسل ہو چکا ہو
پھر بھی غسل واجب ہے۔ مسئلہ١١٨:اگر چند میّتوں کو مس کرے یا ایک میّت کو کئ بار مس
کرے تو ایک ہی غسل کافی ہے۔
مسئلہ١٢٥:مسلمان اگر چہ شیعہ اثناعشری بھی نہ ہو پھر بھی اس کو غسل و کفن دینا، اس پر نماز پڑھنا اور اسے دفن کرنا ہر مکلَّف پر واجب ہے۔ اور بعض اشخاص اسے انجام دیدیں تو دوسروں سے ساقط ہو جاۓ گا، اگر کوئ انجام نہ دے تو سب گنہگار ہونگے۔ مسئلہ١٢٦:اگر کسی کو معلوم ہو کہ میّت کا غسل یا کفن یا نماز یا دفن باطل طریقے سے انجام دیا گیا ہے تو اس پر واجب ہے کہ دوبارہ انجام دے لیکن اگر فقط گمان ہو کہ باطل تھا یا شک ہو کہ صحیح تھا یا نہیں تو اس صورت میں دوبارہ انجام دینا ضروری نہیں ہے۔ مسئلہ١٢٧:اگر میّت اپنے غسل و کفن، دفن اور نماز کے لۓ ولی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو معیّن کرے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ ولی اور وہ دوسرا شخص دونوں اجازت دیں اور یہ ضروری نہیں ہے کہ میّت نے جس شخص کو ان امور کے انجام دینے کے لۓ معیّن کیا ہے وہ اس وصیّت کو قبول کرے لیکن اگر اس نے وصیّت قبول کرلی ہے تو پھر اسے اس وصیّت پر عمل کرنا ہو گا۔
مسئلہ١٢٨:میّت کو تین غُسل دینا واجب ہیں، پہلا بیری کے پانی سے دوسرا کافور کے پانی سے تیسرا خالص پانی سے۔ مسئلہ١٢٩:بیری کی پتّی اور کافور اتنا زیادہ نہ ہو کہ پانی کو مضاف کردے اور اتنا کم بھی نہ ہو کہ یہ نہ کہا جاسکے کہ بیری کی پتّی اور کافور اس میں ملا ہو اہے۔ مسئلہ١٣٠:اگر بیری کی پتّی یا کافور یا ان دونوں میں سے کوئ ایک نہ مل سکے یا اس کا استعمال جائز نہ ہو مثلاً غصبی ہو تو جو ممکن نہ ہو اس کی جگہ پر میّت کو خالص پانی سے غسل دیا جاۓ۔ مسئلہ١٣١:میّت کو غسل دینے والے شخص کے لۓ مسلمان، شیعہ
اثناعشری، بالغ، عاقل ہونا اور مسائل غسل سے واقفیت رکھنا ضروری ہے۔ مسئلہ١٣٣:مرد کا عورت کو اور عورت کا مرد کو غسل دینا حرام ہے لیکن بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو غسل دے سکتا ہے، اگر چہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو غسل نہ دے۔ مسئلہ١٣٤:اگر میّت کے جسم کا کوئ حصّہ نجس ہو تو غسل دینے سے پہلے اسے پاک کرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ غسل شروع کرنے سے پہلے میّت کا پورا بدن پاک کرے۔ مسئلہ١٣٥:غسل میّت غسل جنابت کی طرح ہے اور احتیاط واجب یہ ہے
کہ غسل ترتیبی ممکن ہونے کی صورت میں غسل ارتماسی نہ دیا جاۓ، لیکن غسل ترتیبی میں
بدن کے تینوں حصّوں میں ہر ایک کو آب کثیر میں غوطہ دیا جا سکتا ہے۔
مسئلہ١٣٧:مسلمان میّت کو تین کپڑوں میں کفن دیا جاۓ اور ان تین کپڑوں کو لنگ، قمیص اور چادر کہتے ہیں۔ مسئلہ١٣٨:لنگ وہ کپڑا ہے جو ناف سے زانو تک کے حصّے کو ڈھانپ لے اور بہتر یہ ہے کہ سینے سے پاؤں تک ہو، اور قمیص وہ کپڑا ہے جو کندھوں سے لے کر پنڈلیوں کے نصف حصّے تک یا پورے بدن کو چھپالے اور بہتر یہ ہے کہ پیر تک ہو اور چادر وہ کپڑ ا ہے جو سر سے لے کر پاؤں تک لمبی ہو کہ دونوں طرف گرہ لگائ جاسکے اور چوڑائ میں اتنی ہو کہ ایک طرف کا حصّہ دوسری طرف جاسکے۔ مسئلہ١٣٩:لنگ کا وہ حصّہ جو ناف سے زانو تک ڈھانپ لے اور قمیص کا وہ حصّہ جو کندھوں سے نصف پنڈلی تک چھپالے یہ کفن کی واجب مقدار ہے، اور اس سے زیادہ مقدار جو پہلے مسئلے میں بیان کی گئ ہے وہ مستحب ہے۔ مسئلہ١٤٠:اگر میّت کا کفن اس کی نجاست سے یا کسی دوسری نجاست سے
نجس ہو جاۓ اور کفن کے ضایع ہو نے کا خوف نہ ہو تو نجس مقدار کو پاک کردیں یا کاٹ
دیں اگرچہ میّت کو قبر میں رکھا ہی کیوں نہ جا چکا ہو، اور اگر اس کا پاک کرنا یا
کاٹنا ممکن نہ ہو تو بدل دیا جاۓ۔
مسئلہ١٤٢:میّت کو غسل دینے کے بعد واجب ہے کہ اسے حنوط کریں یعنی اسکی پیشانی، ہتھیلیوں، گھٹنوں اور پیر کے دونوں انگوٹھوں پر کافور ملا جاۓ اور مستحب ہے کہ اسکی ناک کی نوک پر بھی کافور ملا جاۓ، کافورکو تازہ اور پسا ہو ا ہونا چاہیۓ او راگرپرانا ہونے کی وجہ سے اس کی خوشبو زائل ہو گئ ہو تو وہ کافی نہیں ہے۔ مسئلہ١٤٣:احتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلے میّت کی پیشانی پر کافور ملا جاۓ۔ مسئلہ١٤٤:احتیاط واجب یہ ہے کہ میّت کو مشک، عنبر، عود، اور دوسرے عطریات کے ذریعہ معطّر نہ کریں اور ان کو کافور کے ساتھ مخلوط نہ کریں۔ مسئلہ١٤٥:مستحب ہے کہ میّت کے ساتھ قبر میں دو ترو تازہ لکڑیاں رکھی جائیں۔
مسئلہ١٤٦:مسلمان میّت پر اگر چہ وہ بچہ ہی کیوں نہ ہو نماز پڑھنا واجب ہے لیکن اس بچّے کے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو مسلمان ہو نا چاہیۓ، اور بچّے کی عمر چھ سال تمام ہو چکی ہو۔ مسئلہ١٤٧:نماز میّت پڑھنے کی جگہ غصبی نہیں ہونی چاہیۓ اور میّت کی جگہ بلند یا پست نہ ہو ،لیکن مختصر پستی و بلندی میں کوئ حرج نہیں ہے۔ مسئلہ١٤٨:اگر میّت نے وصیّت کی ہو کہ فلاں شخص اس پر نماز پڑھے تو اسی کو پڑھنی چاہیۓ، اور احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ شخص میّت کے ولی سے اجازت حاصل کرے اور ولی پر بھی واجب ہے کہ اسکو اجازت دیدے۔ مسئلہ١٤٩:میّت پر متعدد بار نماز پڑھنا مکروہ ہے لیکن اگر مرنے والا اہل و تقویٰ ہو تو مکروہ نہیں ہے۔
مسئلہ١٥٠:میّت میں پانچ/٥ تکبیریں ہوتی ہیں اور اگر
نماز پڑھنے والا مندرجہ ذیل ترتیب سے پانچ تکبیریں کہے تو کافی ہے پہلے
نیّت کرکے تکبیر کہے اور پہلی تکبیر کے بعد یہ دعا پڑھے؛’’أَشُہَدُ اَنُ
لاٰ اِلٰہَ اِلا اللّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللّٰہِ‘‘۔اسکے بعد
دوسری تکبیرکہے اور یہ دعا پڑھے؛’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ
مُحَمَّدٍ‘‘۔پھر تیسری تکبیر کہے اور یہ دعا پڑھے؛’’اَللّٰہُمَّ
اَُغُفِرُلِلُمُؤُمِنِیُنَ وَالُمُؤُمِنٰاتِ‘‘۔ پھر چوتھی تکبیرکہے اور
اسکے بعد اگر میّت مرد کی ہو تو یہ دعا پڑھے؛’’اَللّٰہُمَّ
اُغُفِرُلِھٰذَاالُمیَّتِ‘‘۔اور اگر میّت عورت کی ہو تو یہ دعا
پڑھے؛’’اَللّٰہُمَّ اُغُفِرُ لِھٰذِہِ الُمَیَّتِ‘‘۔اس کے بعد پانچویں
تکبیر کہہ کر نماز تمام کردے۔یہ نماز میّت کا مختصر طریقہ ہے ، لیکن دوسرا
طریقہ جو کہ بہتر ہے وہ تفصیل کے ساتھ ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ١٥١:جو شخص نماز میّت کو با جماعت پڑ ھ رہا ہے اسے تکبیریں
اور دعائیں پڑھناچاہیۓ۔
مسئلہ١٥٢:چند چیزیں نماز میّت میں مستحب ہیں۔
مسئلہ١٥٣:میّت کو اس طریقے سے زمین میں دفن کرنا واجب ہے کہ اسکی بو باہر نہ آۓ اور درندے بھی اس کی لاش کو باہر نہ نکال سکیں اور اگر اس کا ڈر ہو کہ جانور لاش کو نکال لیں گے تو اینٹ وغیرہ سے مضبوط کریں۔ مسئلہ١٥٤:میّت کو قبر میں دائیں کروٹ اس طرح لٹائیں کہ اس کے بدن کا اگلا حصّہ قبلہ رُخ ہو۔ مسئلہ١٥٥:میّت کو غصبی جگہ پر یا ایسی جگہ پر جو دوسرے کاموں کے لۓ وقف کی گئ ہو جیسے مسجد وغیرہ میں دفن کرنا جائز نہیں ہے۔
(١)مستحب ہے کہ قبر کی گہرائ ایک متوسط انسان کے قد کے
برابر ہو،
’’ھل انت علی العھد الذی فا رقتناعلیہ من شھادة ان لا
الہٰ الاَّ اللّٰہ وحدہُ لاشریک لہ و أنَّ محمداً صلّی اللّٰہ علیہ و آلہ
عبدہ و رسولہ و سیّدالنبیین و خاتم المرسلین و أنَّ علیاً امیرالمؤمنین و
سیّدالوصیّین و امام افترض اللّٰہ طاعتہ علَی المسلمین و أنَّ الحسن و
الحسین و علی بن الحسین و محمد بن علی و جعفر بن محمدٍ و موسیٰ ابن جعفر و
علی بن موسٰی و محمدبن علی و علی بن محمد و الحسن بن علی و القائم الحجّت
المہدی صلوات اللّٰہ علیہم اََ ئِمت المؤمنین و حجج اللّٰہ علَی الخلق
اجمعین و أَئِمتکَ اَئِمتٌ ھُدیٰ ابرا رٌ یا فلان بن فلان اذا أتاک
المکان المقرّبان رسولین من عنداللّٰہ تبارک و تعالیٰ و سئلاک عن ربک و عن
نبیّک و عن دینک و عن کتابک و عن قبلتک و عن أئِمتک فلا تخف و لاتحزن و قل
فی جوابھما اللّٰہ ربّی و محمد صلّی اللّٰہ علیہ و آلہ نبیّی و الاسلام
دینی و القرآن کتابی و الکعبہ قبلتی و أمیرالمؤمنین علی بن ابیطالب امامی
و الحسن بن علی المجتبیٰ امامی و الحسین بن علی الشہیدبکربلاء امامی و علی
زین العابدین امامی و محمدالباقر امامی و جعفر الصّادق امامی و موسیٰ
الکاظم امامی و علی الرّضا امامی و محمد الجواد امامی و علی الھادی امامی و
الحسن العسکری امامی و الحجّت المنتظر امامی ھٰؤلاء صلوات اللّٰہ علیہم
أجمعین أئِمتی و سادتی و قادتی و شفعائ بھم أتولّیٰ ومن أعدا ئِہم
أتبرّأ فی الدنیا و الآخرة ثمّ اعلم یا فلان بن فلان اَنَّ اللّٰہ تبا رک
و تعالی نِعم الرّب و اَنَّ محمد صلّی اللّٰہ علیہ وآلہ نِعم الرّسول و اَنَّ
علی بن ابیطالب وأولادہ المعصومین الأئِمہ الاَحد عشرنعم الاَ ئِمہ واَنَّ
ماجائَ بہ محمد صلَّی اللّٰہ علیہ و آلہ حقٌّ وانّ الموت حقٌّ وسئوال منکر
ونکیر فی القبر حقٌّ والبعث حقٌّ والنشورحقٌّ والصراط حقٌّ و المیزان حقٌّ
و تطائر الکتب حقٌّ وانّ الجنّہ حقٌّ و انّ الساعہ أتیت لا ریب فیہا و انّ
اللّٰہ یبعث من فی القبور أَ فَہمتَ یا فلان ثبتک اللّٰہ بالقول الثابت و
ھداک اللّٰہ الی صراط مستقیم عرّف اللّٰہ بینک و بین أولیائک فی مستقر من
رحمتہ‘‘پھر اسکے بعد کہے ؛’’أللّٰہُمَّ جاف الارض عن جنبیہ واصعد بروحہ
الیک ولقّہ منک برھاناً أَللّٰہُمَّ عفوک عفوک‘‘۔
نماز وحشت دو رکعت ہے ا سکی پہلی رکعت میں حمد کے بعد ایک مرتبہ(آیت الکرسی)اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد دس/١٠مرتبہ (سورۂ انّا انزلنا)پڑھے اور سلام کے بعد یہ کہے ؛’’أللّٰہُمَّ صلّ علیٰ محمدٍ و آل محمدٍ وابعث ثوانہا الیٰ قبر فلان‘‘ اورلفظ فلان کی جگہ میّت کا نام لیا جاۓ۔
مسئلہ ١٥٦: مسلمان کی قبر کا کھودنا حرام ہے اگر چہ وہ
بچّے یا دیوانے کی ہی کیوں نہ ہو ، لیکن اگر اس کا جسم مٹی میں مل چکا ہے
تو کوئ حرج نہیں ہے۔
|