نماز


نماز مسافر متفرق مسائل نماز قضاء
باپ کی قضاء نمازیں جو بڑے بیٹے پر واجب ہیں نماز جماعت امام جماعت کے شرائط
احکام جماعت نماز آیات نماز آیات کا طریقہ
نماز عید فطر و عید قربان نماز عید کا طریقہ نماز کے لۓ اجیر بنانا


نماز مسافر


مسافر نماز ظہر و عصر و عشاء کو آٹھ شرطوں کے ساتھ قصر پڑھے یعنی دو رکعت پڑھے۔

١.پہلی شرط؛اس کا سفر آٹھ/٨فرسخ شرعی سے کم نہ ہو اور ایک شرعی فرسخ ساڑھے پانچ کلو میٹر کا ہوتا ہے۔

مسئلہ٢٧٨:اگر کسی جگہ جانے کے لۓ دو راستے ہوں ایک راستے کی مسافت آٹھ فرسخ سے کم اور دوسرے راستے کی مسافت آٹھ فرسخ یا اس سے زیادہ ہو تو اگر انسان آٹھ فر سخ والے راستے سے جاۓ تو نماز قصر پڑھے اور اگر آٹھ فرسخ سے کم والے راستے سے جاۓ تو نماز پوری پڑھے۔

٢.دوسری شرط؛مسافر کا ابتداسے قصد آٹھ فرسخ جانے کا نہ ہو تو اگر ایسی جگہ جاۓ جو آٹھ فرسخ سے کم ہو اور اس جگہ پہنچنے کے بعد ایسی جگہ جانے کا قصد کرے جہاں پہنچ کر آٹھ فرسخ ہو جاتا ہو تو چونکہ پہلے آٹھ فر سخ کا قصد نہیں تھا اس لۓ نماز پوری پڑھے لیکن اگر وہاں سے آٹھ فرسخ جانے کا قصد ہوجاۓ یا چار فرسخ چلا جاۓ اور اسی دن یا رات یا دوسرے دن اپنے وطن یا ایسی جگہ جہاں دس دن رہنے کا ارادہ رکھتا ہو وہاں پلٹ جاۓ تو نماز قصر پڑھے۔

٣.تیسری شرط؛مسافر راستے میں اپنے قصد سے منحرف نہ ہو اگر چہ چار فرسخ پہنچنے سے پہلے اپنے قصد سے منحرف ہو جاۓ یا متذبذب ہو جاۓ تو نماز پوری پڑھے۔

٤.چوتھی شرط؛مسافر کو آٹھ فرسخ تک پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے نہ گزرنا ہو یا دس دن یا دس دن سے زیادہ کسی جگہ قیام نہ کرنا ہو اگرکوئ شخص آٹھ فر سخ پہنچنے سے پہلے اپنے وطن سے گزرنا چاہتا ہو یا دس دن کسی جگہ قیام کرنا چاہتا ہو تو نمازپوری پڑھے۔

٥.پانچویں شرط؛کسی حرام کام کے لۓ سفر نہ ہو اگر حرام کام کے لۓ سفر کرے مثلاً چوری کرنے کے لۓ سفر کرے تو نماز پوری پڑھے اور یہی حکم اس وقت بھی ہے جب بذات خود سفر بھی حرام ہو مثلاً اکیلے سفر کرنا مضر ہو یا عورت شوہر کی اجازت کے بغیر یا فرزند والدین کی اجازت کے بغیر ایسے سفر پر جاۓ جو ان کی اذیّت کا باعث ہو اور سفر بھی واجب نہ ہو لیکن اگر سفر واجب ہوجیسے حج کا سفر تو نماز قصر پڑھے۔

٦.چھٹی شرط؛مسافر خانہ بدوشوں میں سے نہ ہوجو بیا بانوں میں پھرا کرتے ہیں اور جہاں انہیں اپنے جانوروں کے لۓ پانی اور چارہ مل جاۓ وہیں ٹھہر جاتے ہیں اور پھر کچھ دنوں کے بعد دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔خانہ بدوشوں کو اس سفر میں نماز پوری پڑھنا چاہیۓ۔

٧.ساتویں شرط؛مسافر کا مشغلہ سفر کرنا نہ ہو اس بنا پر شتر بان، ڈرائور، چوپان، ملّاح وغیرہ اگرچہ گھر کا سامان لے جانے کے لۓ ہی کیوں نہ سفر کریں پہلے سفر کے علاوہ نماز پوری پڑھے گا اگر چہ اس کا پہلا سفر طولانی ہی کیوں نہ ہو نماز قصر پڑھے گا۔

مسئلہ٢٧٩:اگر سال کے کچھ حصّے میں اس کا شغل مسافرت ہو مثلاً ڈرائیور صر ف جاڑے یا گرمی میں اپنی گاڑی کراۓ پر دیتا ہو تو سفر کی حالت میں بھی نماز پوری پڑھے گا اور احتیاط مستحب کی بنا پر قصر او ر پوری دونوں پڑھے گا۔

مسئلہ٢٨٠:جس مسافر کا شغل ہی سفر ہو اگر وہ کسی دوسرے کام مثلاً زیارت یا حج کے لۓ سفر کرے تو اس کی نماز قصر ہو گی لیکن اگر ڈرائیور اپنی گاڑی کو زیارت کے لۓ کراۓ پر دے اور ضمناً خود بھی زیارت کرے تو اس صورت میں نماز پوری پڑھے گا۔
٨.آٹھویں شرط؛مسافر حد ترخص تک پہنچ جاۓ یعنی اپنے وطن یا ایسی جگہ جہاں دس دن ٹھہرنے کا قصد رکھتا ہو احتیاط واجب کی بنا پر اتنا دور ہو جاۓ کہ شہر کی دیوار دکھائ نہ دے اور آذان سنائ نہ دے لیکن اس صورت میں فضاء غبار آلود یا کوئ دوسری چیز نہ ہو جودیوار دیکھنے یا آذان سننے میں مانع ہو اور یہ ضروری نہیں ہے کہ مینار اور گنبد و غیرہ دکھائ نہ دے یا دیواریں بالکل نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں بلکہ دیواروں کا پوری طرح دکھائ نہ دینا کافی ہے۔

مسئلہ٢٨١:جو شخص دو جگہوں پر زندگی بسر کرتاہے مثلاً چھ ماہ ایک شہر میں اور چھ ماہ دوسرے شہر میں قیام کرتا ہو تو دونوں جگہیں اس کا وطن ہیں اسی طرح اگر انسان دو سے زیادہ جگہوں کو اپنی زندگی کے لۓ اختیار کرے تو وہ سب مقامات اس کا وطن شمار ہونگے۔

مسئلہ٢٨٢:اگر مسافر کسی جگہ دس دن رہنے کاقصد کرے اور ایک چار رکعتی نماز پڑھنے سے پہلے اپنے ارادہ سے منحرف ہو جاۓ یا متذبذب ہو جاۓ کہ وہاں رہے یا کسی دوسری جگہ چلا جاۓ تو نماز قصر پڑھے گا اور اگر چار رکعتی نماز پڑھنے کے بعد قیام کے ارادے سے منحرف یا متذبذب ہوجاۓ تو جب تک وہاں رہے گا نمازیں پوری پڑھے گا۔

متفرق مسائل

مسئلہ٢٨٣:مسافر مسجد الحرام ،مسجد النبی صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم اور مسجد کوفہ میں اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے لیکن اگر اس جگہ نماز پڑھنا چاہے جو پہلے مسجد کا جزو نہیں تھی بلکہ بعد میں مسجد سے ملا دی گئ ہے اور اس میں نماز پڑھنا چاہتا ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز قصر پڑھے اور اسی طرح مسافر حرم سیّد الشہداء علیہ السلام میں نماز پوری پڑھ سکتا ہے لیکن احتیاط واجب یہ کہ حرم مطہر کے علاوہ نماز قصر پڑھے حرم کے پیچھے والی مسجد جو اس سے ملحق ہے وہ حرم سے خارج ہے اور اگر ضریح مطہر سے بیس/٢٠ ہاتھ دور نماز پڑھنا چاہے تو قصر پڑھے۔

مسئلہ٢٨٤:اگر مسافر نے نماز نہ پڑھی ہو اور وقت ختم ہونے سے پہلے وطن یا ایسی جگہ پہنچ جاۓ جہاں دس دن رہنے کا ارادہ ہو تو نماز پوری پڑھے اور جو شخص مسافر نہ ہو اگر اوّل وقت نماز نہ پڑھے اور سفر کرے تو سفر میں نماز قصر پڑھے۔

مسئلہ ٢٨٥:اگر ایسا مسافر کہ جس پر نماز قصر ہے ظہر یا عصر یا عشاء کی نماز قضاء ہو جاۓ تو اس کی قضاء بھی دو رکعت بجا لاۓ اگر چہ وہ سفر میں نہ ہو اور اسی طرح جو شخص مسافر نہیں ہے اس سے ان تینوں نمازوں میں سے کوئ نماز قضاء ہو جاۓ تو اس کی قضاء پوری بجا لاۓ گا اگر چہ وہ سفر کی حالت میں ہی کیوں نہ ہو۔

نماز قضاء

مسئلہ٢٨٦:جس شخص نے اپنی واجب نماز کو اس کے وقت میں ادا نہ کیا ہو توا سکی قضاء بجا لاۓ اگر چہ نماز کے پورے وقت میں سوتا رہا یا اختیاراًیا مستی یا بیہوشی کی وجہ سے نہ پڑھی ہو لیکن وہ پنجگانہ نمازیں جو عورت نے حالت حیض یا نفاس کی وجہ سے نہیں پڑھی ہیں انکی قضاء نہیں ہے۔

مسئلہ٢٨٧:اگر نماز کا وقت گزر جانے کے بعد اس کو معلوم ہو کہ جو نماز اس نے پڑھی ہے وہ باطل تھی تو اس کی قضاء بجا لاۓ۔

مسئلہ٢٨٨:پنجگانہ نمازوں کے علاوہ چند نمازوں کی قضاء بجا لانا چاہیۓ جیسے نماز آیات یا پنجگانہ نمازوں میں سے ایک اور چند غیر پنجگانہ نمازوں کی قضاء بجا لانا چاہے تو اس میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ٢٨٩:جس شخص سے صبح کی چند نمازیں یا ظہر کی چند نمازیں قضاء ہو ئ ہیں لیکن ان کی تعداد معلوم نہ ہو مثلاً نہ جانتا ہو کہ تین نمازیں قضاء ہوئ ہیں یا چار یا پانچ تو اگر کمتر مقدار میں نماز پڑھ لے تو کافی ہے۔لیکن اگر ان کی تعداد جانتا تھا اور بھول گیا ہے تو احتیاط واجب کی بنا پر بلکہ یہ حکم قوت سے خالی نہیں ہے کہ اتنی نمازوں کی قضاء بجا لاۓ کہ سب نمازوں کے ادا کرنے کایقین ہو جاۓ مثلاً اگر بھول جاۓ کہ صبح کی کتنی نمازیں قضاء ہوئ ہیں اوریقین ہے کہ دس سے زیادہ نہیں تھیں تو احتیاطاً دس نماز صبح بجا لاۓ۔

مسئلہ٢٩٠:قضاء نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جا سکتی ہے خواہ امام جماعت قضاء نماز پڑھ رہا ہو یا ادا، امام اور ماموم کا ایک ہونا ضروری نہیں ہے مثلاً صبح کی قضاء نماز امام کی نماز ظہر یا عصر کے ساتھ پڑھے تو کوئ حرج نہیں ہے۔

باپ کی قضاء نمازیں جو بڑے بیٹے پر واجب ہیں

مسئلہ٢٩١:اگر باپ اپنی نماز اور روزہ بجا نہیں لایا ہے تو اس کے مرنے کے بعد اس کی قضاء بجا لانا بڑے بیٹے پر واجب ہے یا کسی کو اجرت دے کر نماز و روزہ کی ادائیگی کرے لیکن وہ روزہ جو سفر میں چھوٹ گیا ہے اگر چہ اسکی قضاء بجا نہیں لا سکتا تھا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ بڑا لڑکا قضاء بجا لاۓ یا اجرت دے کر روزہ رکھواۓ لیکن ماں کی قضاء نمازو روزے کا بڑے لڑکے پر ادا کرنے کے وجوب کے سلسلہ میں کوئ معتبر دلیل نہیں ہے لیکن احتیاط کا ترک کرنا مناسب نہیں ہے۔

مسئلہ٢٩٢:اگر بڑا لڑکا اپنے والدین کی نماز پڑھنا چاہے تو اس کی بجا آ وری میں اپنی تکلیف پر عمل کرے مثلاً اپنی ماں کی قضاء نماز کے ادا کرنے میں صبح ،مغرب اور عشاء کی نماز بلند آواز سے پڑھے۔

مسئلہ٢٩٣:اگر بڑا لڑکا ماں باپ کی موت کے وقت نا بالغ یا دیوانہ ہو تو جب بالغ ہو جاۓ یا دیوانگی سے شفا یاب ہونے سے پہلے مر جاۓ تو دوسرے پر کسی چیز کا بجا لانا ضروری نہیں ہے۔

نماز جماعت

مسئلہ٢٩٤:واجب نمازیں خصوصاً پنجگانہ نمازوں کو جماعت سے پڑھنا مستحب ہے اور صبح و مغرب و عشاء کی نمازیں خصوصاً اس شخص کے لۓ مستحب ہیں جو مسجد کا ہمسایہ ہو اور مسجد کی آذان سنتا ہو اسکے لۓ زیادہ تاکید کی گئ ہے۔

مسئلہ٢٩٥:نماز جماعت میں لا پرواہی کی وجہ سے حاضر نہ ہونا جائز نہیں ہے بلکہ مناسب نہیں کہ انسان بغیر کسی عذر کے نماز جماعت کو ترک کرے۔

مسئلہ٢٩٦:نماز کو جماعت سے پڑھنے کے لۓ انتظار کرنا مستحب ہے اور اوّل وقت فرادا نماز پڑھنے سے نماز جماعت پڑھنا بہتر ہے اور اسی طرح مختصر نماز جماعت طویل فرادا نماز سے بہتر ہے۔

مسئلہ٢٩٧:جس شخص کو نماز میں وسوسہ ہو تا ہو اور فقط جماعت سے نماز پڑھنے میں اسے وسوسہ نہ ہوتا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پراسے جماعت سے نماز پڑھنی چاہیۓ۔

مسئلہ٢٩٨:مستحب نمازیں جماعت سے نہیں پڑھی جاسکتیں لیکن نماز استسقاء جو طلب باران کیلۓ پڑھی جاتی ہے یا وہ نماز جو واجب ہو اور کسی وجہ سے مستحب ہو گئ ہے جیسے عید الفطر اور عید قربان کی نماز یں امام علیہ السلام کے زمانے میں واجب تھیں اور انکی غیبت کی وجہ سے مستحب ہو گئ ہیں تو ان نمازوں کو جماعت سے پڑھا جاسکتا ہے۔

مسئلہ٢٩٩:اگر امام جماعت اپنی یومیہ نماز کی قضاء پڑھ رہا ہو تو اس کی اقتداء کی جاسکتی ہے لیکن اگر اپنی نماز کو احتیاطاً قضاء کر رہا ہو یا کسی دوسرے کی قضاء نماز پڑھ رہا ہو اگر چہ اسکے لۓ اجرت بھی نہ لی ہو پھر بھی ان صورتوں میں اقتداء کرنا اشکال سے خالی نہیں ہے مگر یہ کہ غیر کی قضاء یقینی ہو۔

مسئلہ٣٠٠:اگر ماموم کسی عذر یا بغیر عذر کے حمد و سورہ کے بعد فرادا کی نیّت کرے تو حمد و سورہ پڑھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر حمد و سورہ ختم ہونے سے پہلے فرادا کی نیّت کرے تو جتنا حصہ امام جماعت نے نہیں پڑھا ہے اسے پڑھے۔

مسئلہ٣٠١:اگر انسان ایسے وقت پہنچے جب امام جماعت نماز کا آخری تشہد پڑھ رہا ہو تو اگر جماعت کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہو تو نیّت اور تکبیرة الاحرام کہنے کے بعد بیٹھ جاۓ اور تشہد کو قربت مطلق کے قصد سے امام جماعت کے ساتھ پڑھے لیکن سلام نہ پڑھے اور امام کے سلام پڑھنے تک رکا رہے اور پھر کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ نیّت اور تکبیرة الاحرام کہے بغیر حمد و سورہ پڑھے اور اسکوپہلی رکعت شمار کرے۔

مسئلہ٣٠٢:احتیاط واجب ہے کہ ماموم کے سجدے کی اور امام کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان ایک قدم سے زیادہ فاصلہ نہ ہو اور اسی طرح اگر انسان اس ماموم کے ذریعہ جو اسکے آگے کھڑا ہوا ہے امام سے متصل ہو رہا ہے احتیاط واجب یہ ہے کہ اسکے سجدے کی جگہ اور اس ماموم کے کھڑے ہونے کی جگہ کے درمیان اس مقدار سے زیادہ فاصلہ نہ ہو۔

مسئلہ٣٠٣:اگر امام چار رکعتی نماز کی دوسری رکعت میں اور کوئ اسکی اقتداء کرے تو وہ اپنی دوسری رکعت میں جب کہ امام کی تیسری رکعت ہو گی دونوں سجدوں کے بعد بیٹھ کر تشہد کی واجب مقدار پڑھے اور کھڑا ہو جاۓ تو اگر تین مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھنے کا وقت نہ ہو تو ایک مرتبہ کہے اور رکوع میں امام سے ملحق ہو جاۓ۔

مسئلہ٣٠٤:جس شخص کو اطمینان ہو کہ اگر سورہ شروع کرے گا تو امام کے رکوع کو پالے گا تو احتیاط واجب یہ ہے کہ سورہ شروع کردے اور اگر شروع کر چکا ہے تو تمام کرے۔

مسئلہ٣٠٥:اگر مستحب نماز میں مشغول ہو اور نماز جماعت شروع ہو جاۓ اگر اطمینان نہ ہو کہ نماز ختم کر کے جماعت میں شریک ہو سکے گا تو مستحب ہے کہ نماز چھوڑ دے اور جماعت میں شریک ہو جاۓ۔بلکہ اگر اطمینان نہ ہو کہ پہلی رکعت میں پہنچ سکے گا تو مستحب ہے کہ اسی حکم پر عمل کرے۔

مسئلہ٣٠٦:اگر امام کی نماز ختم ہو جاۓ اور ماموم تشہد یا پہلے سلام میں مشغول ہو تو فرادا کی نیّت کرنا ضروری نہیں ہے۔

امام جماعت کے شرائط

مسئلہ٣٠٧:امام جماعت کو بالغ، عاقل، شیعہ اثنا عشری، عادل اور حلال زادہ ہونا چاہیۓ اورنماز صحیح طریقہ سے پڑھتا ہو اور اگر ماموم مرد ہو تو اس کاامام مرد ہونا چاہیۓ اور ممیّز بچّہ جو اچھائ برائ سمجھتا ہے دوسرے ممیّز بچّے کی اقتداء کرسکتا ہے۔

مسئلہ٣٠٨:جو شخص کھڑے ہو کر نماز پڑ ھ سکتا ہے وہ اس شخص کی اقتداء نہیں کر سکتا ہے جو بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جو شخص بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو وہ لیٹ کر نماز پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کر سکتا۔

مسئلہ٣٠٩:احتیاط واجب کی بنا پر جزامی اور مبروص کو امام جماعت نہیں ہونا چاہیۓ۔

احکام جماعت

مسئلہ٣١٠:نیّت کرتے وقت ماموم کو چاہیۓ کہ امام کو معیّن کرے لیکن امام کا نام جاننا ضروری نہیں ہے مثلاً اگر نیّت کرے کہ میں اس امام حاضر کی اقتداء کر رہا ہوں تو اسکی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ٣١١:ماموم کو حمد و سورہ کے علاوہ باقی تمام چیزوں کو خود پڑھنا چاہیۓ لیکن اگر اسکی پہلی یا دوسری رکعت اور امام کی تیسری رکعت یا چوتھی رکعت ہو تو حمد و سورہ پڑھے۔

مسئلہ٣١٢:اگر ماموم صبح و مغرب و عشاء کی نمازوں کی پہلی اور دوسری رکعت میں امام کے حمد و سورہ کی تلاوت سنے تو چاہے کلمات کو صحیح طریقے سے نہ سنے توپھر بھی حمد و سورہ نہ پڑھے لیکن اگر امام کی تلاوت نہ سنے تو حمد و سورہ پڑھنا مستحب ہے مگر آہستہ پڑھے اور اگر سہواً بلند آواز سے پڑھ دے تو کوئ حرج نہیں ہے۔

مسئلہ٣١٣:احتیاط واجب یہ ہے کہ ماموم ظہر و عصر کی پہلی اوردوسری رکعت میں حمد و سورہ نہ پڑھے اور مستحب ہے کہ اس کے بدلے ذکر پڑھے۔

نماز آیات

مسئلہ٣١٤:نماز آیات چار چیزوں کے ذریعہ واجب ہوتی ہے؛١.سورج گرہن، ٢.چاند گرہن اگر چہ تھوڑی مقدار میں چاند گرہن ہو اور اس سے کوئ خوف بھی نہ کھاۓ، ٣.زلزلہ اگر چہ اس سے کوئ خوف بھی نہ کھاۓ، ٤.بجلی کی چمک و گڑگڑاہٹ اور کالی سرخ ہوا ئیں وغیرہ جب کہ ان سے اکثر و بیشتر افراد خوف زدہ ہوں۔

مسئلہ٣١٥:جن چیز وں کی وجہ سے نماز آیات پڑھنا واجب ہے اگر وہ ایک سے زیادہ مقدار میں واقع ہوں تو انسان پر لازم ہے کہ ان سے ہر ایک کے لۓ نماز آیات بجا لاۓ جیسے اگر سورج گرہن ہو اور زلزلہ بھی آجاۓ تو دونوں کے لۓ علیحدہ علیحدہ نماز پڑھے۔

مسئلہ٣١٦:جب زلزلہ اور بجلی کی گڑ گڑاہٹ اور ان کی ہی مانند چیزیں واقع ہوں تو انسان کو فوراً نماز آیات پڑھنی چاہیۓ اور اگر نہ پڑھے تو گنہگار ہے اور آخری عمر تک اس کی بجا لاسکتا ہے اور جب بھی وہ اسکو پڑھے گا تو اسکو ادا کی نیّت سے پڑھے گا۔

مسئلہ٣١٧:اگر کوئ شخص یہ سمجھے کہ جو نماز آیات اس نے پڑھی ہے وہ باطل تھی تو اس کو دوبارہ پڑھنا چاہیۓ اور اگر اس کاوقت گزر جاۓ تو اسکی قضاء کرے۔

مسئلہ٣١٨:اگرکوئ عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو اور سورج گرہن اور چاند گرہن واقع ہوجاۓ تو اس پر نماز آیات واجب نہیں ہے لیکن زلزلہ اور بجلی کی گڑگڑاہٹ اوران کی مانند کوئ چیز واقع ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ پاک ہونے کے بعد نماز آیات بجا لاۓ بلکہ اس کاوجوب قوت سے خالی نہیں ہے۔

نماز آیات کا طریقہ

مسئلہ٣١٩:نما ز آیات دو رکعت ہے اور اس کی ہر رکعت میں پانچ رکوع ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان نیّت کے بعد تکبیر کہے اور ایک سورۂ حمد اور ایک تمام سورہ پڑھے اور اسکے بعد رکوع میں جاۓ پھر رکوع سے سر اٹھاۓ اور دوبارہ سورہ حمد پڑھے اور اس کے بعد دوسرا سورہ پڑھے اور پھر رکوع میں جاۓ اور اس عمل کو پانچ مرتبہ اسی طرح بجا لاۓ نیز پانچویں رکوع سے بلند ہونے کے بعد دو سجدے بجالاۓ اور اسکے بعد کھڑے ہو کر دوسری رکعت کو بھی پہلی رکعت کے مانند بجا لاۓ اور اس کے بعد تشہد و سلام پڑھ کر نماز تمام کرے۔

مسئلہ٣٢٠:جو چیزیں یومیہ نماز میں واجب اور مستحب ہیں وہ نماز آیات میں بھی واجب اور مستحب ہیں لیکن نماز آیات میں مستحب ہے کہ آذان و اقامت کے بجاۓ تین مرتبہ؛’’اَلصَّلوٰة‘‘ کہے۔

مسئلہ٣٢١:نماز آیات میں مستحب ہے کہ پانچویں اور دسویں رکوع کے بعد’’سمع اﷲ لمن حمدہ‘‘کہے ہر رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد تکبیر کہے لیکن پانچویں اور دسویں رکوع کے بعد تکبیر کہنا مستحب نہیں۔

نماز عید فطر و نماز عید قربان

مسئلہ٣٢٢:نماز عید الفطر و نماز عید قربان امام عصر عجل اﷲ فرجہُ الشریف کے زمانۂ حضور میں واجب ہے اور اس کو جماعت سے پڑھنا چاہیۓ لیکن ہمارے زمانے میں چونکہ اما م زمانہ عجل اﷲ فرجہُ الشریف غائب ہیں اور ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں لہذا نماز عید فطر و عید قربان مستحب ہے اور اسکو جماعت کے ساتھ اور فرادا دونوں طرح پڑھ سکتے ہیں۔

مسئلہ٣٢٣:نماز عید فطرا ور نماز عید قربان کا وقت طلوع آفتاب سے نماز ظہر کے وقت تک ہے۔

نماز عید کا طریقہ

مسئلہ٣٢٤:نماز عید فطر و نما ز عید قربان دو رکعت ہے اسکی پہلی رکعت میں حمد و سورہ پڑھنے کے بعد پانچ تکبیریں کہنا چاہیۓ اور ہر تکبیر کے بعد ایک قنوت پڑھنا چاہیۓ اور پانچویں قنوت کے بعد ایک دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجاۓ اور دو سجدے بجا لاۓ اور اس کے بعد کھڑے ہو کر دوسری رکعت میں چار تکبیریں کہے اور ہر تکبیر کے بعد قنوت پڑھے اور پانچویں تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جاۓ اور رکوع کے بعد دو سجدے بجالاۓ اور اس کے بعد تشہد و سلام پڑھ کر نماز کو تمام کردے۔

مسئلہ٣٢٥:نماز عید الفطر اور عید قربان کے قنوت میں جوبھی دعا یا ذکر یاد ہو اس کو پڑھ لے تو کافی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ یہ دعا پڑھی جاۓ؛ ’’أَللّٰہُمَّ أَھُلَ الُکِبُرِیٰائِ وَ الُعَظَمَہ، وَ أَھُلَ الُجُودِ وَ الُجَبَرُوتِ، وَ أَھُلَ الُعَفُوِ وَ الرَّحُمَہ، وَ أَھُلَ التَّقُوٰی وَ الُمَغُفِرَةِ، أَسُأَلُکَ بِحَقِّ ھَذَا الُیَومِ الَّذِی جَعَلُتَہُ لِلُمُسُلِمِیُنَ عِیُداً وَ لِمُحَمَّدٍ ذُخُرَاً وَ شُرُفَاً وَ کَرَامَةً وَ مَزِیُدَاً أَنُ تُصَلِّی عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحُمَّدٍ وَأَنُ تُدُخِلَنِی فِی کُلِّ خَیُرٍ أَدُخَلَتَ فِیُہِ مُحَمَّدَاً وَ آلَ مُحَمَّدٍ وَ أَنُ تُخُرِجَنِی مِنُ کُلِّ سُوئٍ أَخُرَجُتَ مِنُہُ مُحَمَّدَاً وَ آلَ مُحَمَّد ٍصَلَوَاتُکَ عَلَیُہِ وَ عَلَیُہِمُ، اللّٰہُمَّ أِ نِّی أَسُأَلُکَ خَیُرَ مَا سَأَلَکَ بِہِ عِبَادُکَ الصّٰالِحُونَ وَ أَعُوذُبِکَ مِمَّا أسُتَعٰاذَ مِنُہُ عِبٰادُکَ الُمُخُلَصُونَ‘‘۔

مسئلہ٣٢٦:امام عصر عجل اﷲ فرجہُ الشریف کے زمانۂ غیبت میں مستحب ہے کہ نماز عید فطر اور عید قربان کے بعد دو خطبے پڑھے اور بہتر ہے عید فطر کے خطبے میں زکوٰة فطرہ کے احکام بیان کرے اور عید قربان کے خطبے میں قربانی کے احکام بیان کرے۔ مسئلہ٧٢٣:نماز عید میں کوئ مخصوص سورہ نہیں ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ شمس اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ پڑھے یا پہلی رکعت میں سورۂ سبّح اسم اور دوسری رکعت میں سورۂ والشّمس پڑھے۔

 

نماز کے لۓ اجیر بنانا

مسئلہ٣٢٨:انسان کے مرنے کے بعد نماز کے لۓ اور اس کی دوسری عبادتوں کے لۓ جنکو وہ اپنی زندگی میں نہیں بجا لایا ہے ان کے بجا لانے کے لۓ کسی دوسرے شخص کو اجیر بناۓ یعنی اس کو اجرت دے کہ وہ انہیں بجا لاۓ اور اگر کوئ شخص بغیر مزدوری کے بھی ان کو انجام دے تو صحیح ہے۔

مسئلہ٣٢٩:جو شخص میّت کی قضاء نما زکے لۓ اجیر ہو تو اس کو یا مجتہد ہونا چاہیۓ یا وہ نماز کے مسائل کو تقلید کے اعتبار سے صحیح طور پر جانتا ہو۔ مسئلہ٣٣٠:مرد عورت کے لۓ اور عورت مرد کے لۓ اجیر ہو سکتی ہے اور نما ز کو بلند پڑھنے اور آہستہ پڑھنے میں اپنے وظیفہ پر عمل کرے۔