|
شکیات نماز کی تیئس/۲۳قسمیں ہیں جن میں سے آٹھ/٨وہ ہیں جن سے نماز باطل ہو جاتی ہے اور چھ/٦وہ ہیں جنکی اعتناء نہیں کرنی چاہیۓ اور نو/٩قسمیں وہ ہیں جن میں نماز صحیح ہے۔
مسئلہ٢٦٦:
مسئلہ٢٦٧:حسب ذیل ہیں؛
مسئلہ٢٦٩:نو/٩صورتوں میں اگر چار رکعتی نمازوں کی رکعت کی تعداد میں شک ہو جاۓ تو فوراً غور کرے اگر شک کے کسی طرف پر یقین یا گمان ہو جاۓ تو اس پر بنا رکھ کر نماز تمام کرے ورنہ مندرجہ ذیل احکام پر عمل کرے۔وہ نو/٩صورتیں یہ ہیں؛ ١.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہیں یا تین رکعت تو تین پر بنا رکھے اور ایک رکعت اور پڑھ کرنماز تمام کرے اور نماز کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر بجا لاۓ۔ ٢.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے دو رکعت پڑھی ہیں یا چار رکعت تو چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرے اور نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔ ٣.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہیں یا تین رکعت یا چار رکعت تو چار پر بنا رکھ کر نما ز تمام کرے اور نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر بجا لاۓ۔ ٤.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے کہ چار رکعت پڑھی ہیں یا پانچ تو چار پر بنا کر کے نماز تمام کرے اور نمازکے بعد دو سجدۂ سہو بجا لاۓ لیکن اگر دوسرے سجدے میں ذکر پڑھنے کو بعد اور سراٹھانے سے پہلے ان چار شکوک میں سے کوئ ایک شک پیش آ جاۓ تو احتیاط واجب کی بنا پر اسی شک کے دستور پر عمل کرے اور نماز بھی دوبارہ پڑھے۔ ٥.اثناۓ نماز جہاں بھی تین یا چار رکعت کے درمیان شک ہو جاۓ تو چارپر بنا کرکے نماز تمام کرے اور نماز کے بعد ایک رکعت کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط بجا لاۓ۔ ٦.قیام کی حالت میں چوتھی یا پانچویں رکعت کے بارے میں شک ہو جاۓ تو بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے اور ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر بجالاۓ۔ ٧.قیام کی حالت میں شک ہو کہ تیسری رکعت ہے یا پانچویں تو بیٹھ جاۓ اور تشہد و سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر بجا لاۓ اور احتیاط واجب کی بنا پر قیام بے جاکے لۓ دو سجدۂ سہو کرے۔ ٨.قیام کی حالت میں شک ہو کہ تیسر ی رکعت ہے یا چوتھی یا پانچویں تو بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر بجالاۓ احتیاط واجب کی بنا پر قیام بے جا کے لۓ دو سجدۂ سہو بجا لاۓ۔ ٩.قیام کی حالت میں شک ہو کہ پانچویں رکعت ہے یا چھٹی تو فوراً بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے اور دو سجدۂ سہو بجا لاۓ اور احتیاط واجب کی بنا پر بے جا قیام کے لۓ مزید دو سجدۂ سہو بجا لاۓ۔ مسئلہ٢٧٠:اگر انسان کو صحیح شکوک میں سے کوئ شک پیش آجاۓ اور وہ اپنے وظیفۂ شک پر عمل نہ کرے بلکہ نماز از سرِنو پڑھے تو اگر اس سے پہلے کوئ ایسا کام نہیں کیا تھا کہ جس سے نماز باطل ہو جاتی ہے مثلاً قبلہ کی طرف سے منھ موڑنا وغیرہ تو اسکی دوسری نماز بھی باطل ہے ، لیکن اگر نماز توڑنے والی کوئ چیز انجام دینے کے بعد دوسری نماز میں مشغول ہو جاۓ تو اسکی نماز صحیح ہو گی۔
مسئلہ٢٧١:جس شخص پر نماز احتیاط واجب ہے اسے چاہیۓ کہ سلام پڑھنے کے فوراً
بعد نماز احتیاط کی نیّت کرے اور تکبیر کہے اور فقط سورۂ حمد پڑھے اور
رکوع میں چلا جاۓ پھر سجدے کرے اگر اس پر نماز احتیاط ایک رکعت واجب ہے
دونوں سجدوں کے بعد تشہد و سلام پڑ ھے اور اگر اس پر نماز احتیاط دو رکعت
واجب ہو تو دونوں سجدوں کے بعد پہلی رکعت کی طرح ایک رکعت اور پڑھے پھر
تشہد و سلام پڑھے۔
مسئلہ٢٧٤:پانچ چیزوں کے لۓ نماز کے سلام کے بعد انسان کو سجدۂ سہو کرنا
چاہیۓ۔
مسئلہ٢٧٥:سجدۂ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ سلام پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کی نیّت
کرے اور پیشانی کو اس چیز پر رکھے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے جس ذکر کو پڑھنا
چاہے پڑھے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ یہ ذکر پڑھے؛’’بسم اﷲ وباﷲ وصلی اﷲ
علی محمد وآل محمد‘‘ یا’’بسم اﷲ وباﷲ اللہم صلی علی محمد و آل محمد‘‘لیکن
بہتر یہ ہے کہ ’’بسم اﷲ وباﷲ السلام علیک ایھاالنّبی ورحمت اﷲ و
برکاتہ‘‘کہے۔
مسئلہ٢٧٦:انسان جس سجدے یا تشہد کو بھول گیا ہے نماز کے بعد اس کی قضاء بجا لاتے وقت نماز کی تمام شرائط کا ہونا ضروری ہے مثلاً جسم و لباس کا پاک ہونا اور روبہ قبلہ ہونا وغیرہ اور اس کے علاوہ دوسری تمام شرائط کا خیال رکھے۔ مسئلہ٢٧٧:اگر ایک سجدہ اور تشہد بھول جاۓ تو احتیاط واجب یہ ہے کہ جو پہلے
بھولا ہے اس کی قضاء پہلے بجا لاۓ اور اگر معلوم نہ ہو کہ کیا چیز پہلے
بھولا ہے تو اسے احتیاطاً ایک سجدہ و تشہد اور پھر ایک اور سجدہ بجا لانا
چاہیۓ یا ایک تشہد اور ایک سجدہ اور پھر ایک تشہد بجا لانا چاہیۓ تا کہ
یقین ہوجاۓ کہ سجدہ و تشہد جس ترتیب سے بھولا تھا اسی ترتیب سے ان کہ قضاء
بجا لایا ہے۔
|