شکّیات نماز


شکّیات نماز نماز باطل کرنے والے شک وہ شک کہ جن پر اعتناء نہیں کرنا چاہیۓ
صحیح شکوک نماز احتیاط سجدۂ سہو
سجدۂ سہو کا طریقہ بھولے ہوۓ سجدے اور تشہد کی قضاء  


شکّیات نماز

شکیات نماز کی تیئس/۲۳قسمیں ہیں جن میں سے آٹھ/٨وہ ہیں جن سے نماز باطل ہو جاتی ہے اور چھ/٦وہ ہیں جنکی اعتناء نہیں کرنی چاہیۓ اور نو/٩قسمیں وہ ہیں جن میں نماز صحیح ہے۔

نماز باطل کرنے والے شک

مسئلہ٢٦٦:
١.دو رکعتی نما ز میں شک جیسے صبح اور مسافر کی نماز لیکن مستحب دو رکعتی نماز میں اور نماز احتیاط کا شک نماز کو باطل نہیں کرتا،
٢.تین رکعتی نماز میں شک،
٣.چار رکعتی نماز میں شک کرے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا زیادہ،
٤.چار رکعتی نماز میں دوسرے سجدے کے تمام ہونے سے پہلے شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہیں یا زیادہ،
٥.دو اورپانچ میں یا دو اور پانچ سے زیادہ رکعتوں میں شک کرے،
٦.تین اور چھ میں یا تین اور چھ سے زیادہ میں شک کرے،
٧.نماز کی رکعتوں میں یہ شک کرے کہ کتنی رکعت پڑھی ہیں،
٨.چار اور چھ میں یا چار اور چھ سے زیادہ رکعتوں میں دوسرے سجدے کے تمام ہونے سے پہلے شک کرے لیکن اگر وہ دوسرے سجدے کے بعد چار اور چھ یا چار اور چھ سے زیادہ میں شک کرے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اسے چار رکعت قرار دے کر نماز تمام کرے اور دو سجدۂ سہو بجا لاۓ اور نماز کو بھی دوبارہ پڑھے اور یہ بھی ممکن ہے نماز توڑ دے اور پھر سے پڑھے۔

وہ شک کہ جن پر اعتناء نہیں کرنا چاہیۓ

مسئلہ٢٦٧:حسب ذیل ہیں؛
١.ایسی چیز میں شک کرے جس کا وقت گزر چکا ہو مثلاً رکوع میں یہ شک کرے کہ حمد پڑھی تھی یا نہیں۔
٢.سلام کے بعد پید ا ہونے والا شک۔
٣.نماز کا وقت گزر جانے کے بعد پید ا ہونے والا شک۔
٤.کثیرا لشک کا شک(یعنی زیادہ شک کرنے والے کا شک)۔
٥.امام جماعت کا رکعت کی تعداد میں شک کرناجبکہ ماموم تعداد سے واقف ہو اور اسی طرح ماموم کا شک جبکہ امام کو جماعت کی رکعت کی تعداد معلوم ہو۔
٦.مستحب(سنّت)نمازو ں میں پیدا ہونے والا شک۔
مسئلہ٢٦٨:جو شخص ایک نماز میں تین مرتبہ یا تین نمازوں میں متواتر شک کرے جیسے نماز صبح، ظہر و عصر میں وہ کثیرالشک ہے۔لیکن اگر اسکے زیادہ شک کرنے کی وجہ غصّہ یا خوف یا حواس باختہ نہ ہو تو اپنے شک پر توجہ نہ کرے۔

صحیح شکوک

مسئلہ٢٦٩:نو/٩صورتوں میں اگر چار رکعتی نمازوں کی رکعت کی تعداد میں شک ہو جاۓ تو فوراً غور کرے اگر شک کے کسی طرف پر یقین یا گمان ہو جاۓ تو اس پر بنا رکھ کر نماز تمام کرے ورنہ مندرجہ ذیل احکام پر عمل کرے۔وہ نو/٩صورتیں یہ ہیں؛

١.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہیں یا تین رکعت تو تین پر بنا رکھے اور ایک رکعت اور پڑھ کرنماز تمام کرے اور نماز کے بعد ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر بجا لاۓ۔

٢.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے دو رکعت پڑھی ہیں یا چار رکعت تو چار پر بنا رکھ کر نماز تمام کرے اور نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر پڑھے۔

٣.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہیں یا تین رکعت یا چار رکعت تو چار پر بنا رکھ کر نما ز تمام کرے اور نماز کے بعد دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر بجا لاۓ۔

٤.دوسرے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد شک کرے کہ چار رکعت پڑھی ہیں یا پانچ تو چار پر بنا کر کے نماز تمام کرے اور نمازکے بعد دو سجدۂ سہو بجا لاۓ لیکن اگر دوسرے سجدے میں ذکر پڑھنے کو بعد اور سراٹھانے سے پہلے ان چار شکوک میں سے کوئ ایک شک پیش آ جاۓ تو احتیاط واجب کی بنا پر اسی شک کے دستور پر عمل کرے اور نماز بھی دوبارہ پڑھے۔

٥.اثناۓ نماز جہاں بھی تین یا چار رکعت کے درمیان شک ہو جاۓ تو چارپر بنا کرکے نماز تمام کرے اور نماز کے بعد ایک رکعت کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط بجا لاۓ۔

٦.قیام کی حالت میں چوتھی یا پانچویں رکعت کے بارے میں شک ہو جاۓ تو بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے اور ایک رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر یا دو رکعت بیٹھ کر بجالاۓ۔

٧.قیام کی حالت میں شک ہو کہ تیسری رکعت ہے یا پانچویں تو بیٹھ جاۓ اور تشہد و سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر بجا لاۓ اور احتیاط واجب کی بنا پر قیام بے جاکے لۓ دو سجدۂ سہو کرے۔

٨.قیام کی حالت میں شک ہو کہ تیسر ی رکعت ہے یا چوتھی یا پانچویں تو بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے اور دو رکعت نماز احتیاط کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر بجالاۓ احتیاط واجب کی بنا پر قیام بے جا کے لۓ دو سجدۂ سہو بجا لاۓ۔

٩.قیام کی حالت میں شک ہو کہ پانچویں رکعت ہے یا چھٹی تو فوراً بیٹھ کر تشہد و سلام پڑھے اور دو سجدۂ سہو بجا لاۓ اور احتیاط واجب کی بنا پر بے جا قیام کے لۓ مزید دو سجدۂ سہو بجا لاۓ۔

مسئلہ٢٧٠:اگر انسان کو صحیح شکوک میں سے کوئ شک پیش آجاۓ اور وہ اپنے وظیفۂ شک پر عمل نہ کرے بلکہ نماز از سرِنو پڑھے تو اگر اس سے پہلے کوئ ایسا کام نہیں کیا تھا کہ جس سے نماز باطل ہو جاتی ہے مثلاً قبلہ کی طرف سے منھ موڑنا وغیرہ تو اسکی دوسری نماز بھی باطل ہے ، لیکن اگر نماز توڑنے والی کوئ چیز انجام دینے کے بعد دوسری نماز میں مشغول ہو جاۓ تو اسکی نماز صحیح ہو گی۔

نماز احتیاط

مسئلہ٢٧١:جس شخص پر نماز احتیاط واجب ہے اسے چاہیۓ کہ سلام پڑھنے کے فوراً بعد نماز احتیاط کی نیّت کرے اور تکبیر کہے اور فقط سورۂ حمد پڑھے اور رکوع میں چلا جاۓ پھر سجدے کرے اگر اس پر نماز احتیاط ایک رکعت واجب ہے دونوں سجدوں کے بعد تشہد و سلام پڑ ھے اور اگر اس پر نماز احتیاط دو رکعت واجب ہو تو دونوں سجدوں کے بعد پہلی رکعت کی طرح ایک رکعت اور پڑھے پھر تشہد و سلام پڑھے۔
مسئلہ٢٧٢:نماز احتیاط میں دوسرا سورہ اور قنو ت نہیں ہے اور اسے آہستہ پڑھنا چاہیۓ اور نیّت زبان پر جاری نہ کرے بلکہ احتیاط واجب ہے کہ بسم اللہ بھی آہستہ سے کہے۔
مسئلہ٢٧٣:اگر نماز احتیاط میں سے کسی چیز کو جو رکن نہیں کم یا زیادہ کر دے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دو سجدۂ سہو بجا لاۓ۔

سجدۂ سہو

مسئلہ٢٧٤:پانچ چیزوں کے لۓ نماز کے سلام کے بعد انسان کو سجدۂ سہو کرنا چاہیۓ۔
١.اثناۓ نماز میں سہواً کوئ بات کرے۔
٢.ایسی جگہ سلام پڑھے جہاں اسکا محل نہ ہو مثلاً پہلی رکعت میں سلام پڑھ لے۔
٣.نماز میں ایک سجدہ بھول جاۓ۔
٤.تشہد بھول جاۓ۔
٥.چار رکعتی نماز میں دوسرے سجدے کے بعد شک کرے کہ چار رکعت پڑھی ہیں یا پانچ رکعت اور اس جگہ کہ جہاں کھڑا ہونا چاہیۓ مثلاً حمد و سورہ پڑھتے وقت بھولے سے بیٹھ جاۓ یا بیٹھنے کے موقع پر مثلاً تشہد پڑھنے کے وقت بھولے سے کھڑا ہو جاۓ تو اس صورت میں بھی احتیاط واجب کی بنا پر دو سجدۂ سہو بجا لاۓ بلکہ ہر وہ چیز جو نماز میں بھولے سے کم یا زیادہ کردے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ دو سجدۂ سہو بجاء لاۓ۔

سجدۂ سہو کا طریقہ

مسئلہ٢٧٥:سجدۂ سہو کا طریقہ یہ ہے کہ سلام پڑھنے کے بعد سجدۂ سہو کی نیّت کرے اور پیشانی کو اس چیز پر رکھے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہے جس ذکر کو پڑھنا چاہے پڑھے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ یہ ذکر پڑھے؛’’بسم اﷲ وباﷲ وصلی اﷲ علی محمد وآل محمد‘‘ یا’’بسم اﷲ وباﷲ اللہم صلی علی محمد و آل محمد‘‘لیکن بہتر یہ ہے کہ ’’بسم اﷲ وباﷲ السلام علیک ایھاالنّبی ورحمت اﷲ و برکاتہ‘‘کہے۔

بھولے ہوۓ سجدے اور تشہد کی قضاء

مسئلہ٢٧٦:انسان جس سجدے یا تشہد کو بھول گیا ہے نماز کے بعد اس کی قضاء بجا لاتے وقت نماز کی تمام شرائط کا ہونا ضروری ہے مثلاً جسم و لباس کا پاک ہونا اور روبہ قبلہ ہونا وغیرہ اور اس کے علاوہ دوسری تمام شرائط کا خیال رکھے۔

مسئلہ٢٧٧:اگر ایک سجدہ اور تشہد بھول جاۓ تو احتیاط واجب یہ ہے کہ جو پہلے بھولا ہے اس کی قضاء پہلے بجا لاۓ اور اگر معلوم نہ ہو کہ کیا چیز پہلے بھولا ہے تو اسے احتیاطاً ایک سجدہ و تشہد اور پھر ایک اور سجدہ بجا لانا چاہیۓ یا ایک تشہد اور ایک سجدہ اور پھر ایک تشہد بجا لانا چاہیۓ تا کہ یقین ہوجاۓ کہ سجدہ و تشہد جس ترتیب سے بھولا تھا اسی ترتیب سے ان کہ قضاء بجا لایا ہے۔