واجبات نماز


واجبات نماز واجبات نماز میں پانچ رکن ہیں۔ نیّت
تکبیرة الاحرام قیام قرأت
رکوع سجود وہ چیزیں جن پر سجدہ صحیح ہے
قرآن کے واجب سجدے تشہد سلام
ترتیب موالات  

 

واجبات نماز

مسئلہ٢١٠:واجبات نماز گیارہ ہیں؛
١.نیّت ٢.قیام (یعنی کھڑا ہو نا) ٣.تکبیر ة الاحرام کہنا ٤.رکوع ٥.سجود ٦.قرأت ٧.ذکر ٨.تشہد ٩.سلام ١٠.ترتیب ١١.موالات۔
بعض واجباتِ نماز رکن ہیں یعنی اگر انسان انہیں بجا نہ لاۓ یا زیادہ بجا لاۓ تو خواہ عمداً ہو یا سہواً نماز باطل ہے اور بعض واجبات رکن نہیں ہیں یعنی عمداً کم یا زیادہ ہو جائیں تو نماز باطل ہو جاۓ گی اور اگر سہواً کم یا زیادہ ہو ں تو نماز باطل نہیں ہو گی۔

واجبات نماز میں پانچ رکن ہیں

١. نیّت ٢.تکبیرة الاحرام ٣.قیام یعنی تکبیر ة الاحرام کہتے ہوۓ اور قیام متصل بہ رکوع یعنی رکوع سے پہلے کھڑا ہونا ٤.رکوع ٥.دونوں سجدے۔

نیّت

مسئلہ٢١١:انسان نماز کو قربت کی نیّت سے یعنی حکم خدا کی بجا آوری کے لۓ پڑھے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ نیّت دل میں کرے یا زبان سے کہے مثلاً چار رکعت نماز ظہر پڑھتا ہوں قربتاً الی اللہ۔

تکبیر ة الاحرام

مسئلہ٢١٢:ہر نماز کے شروع میں اللہ اکبر کہنا واجب اور رکن ہے اور اللہ اکبر کے حروف اور ان دونوں کلموں کو ایک دوسرے کے بعد کہے اور یہ دونوں کلمے صحیح عربی میں پڑھے جائیں اور اگر غلط عربی میں انہیں ادا کیا جاۓ یا ان کا ترجمہ فارسی، اردو یا کسی اور زبان میں پڑھ دیا جاۓ تو صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ٢١٣:تکبیرة الاحرام کہتے وقت جسم ساکن ہونا چاہیۓ اگر عمداً جسم کے حرکت کرتے وقت تکبیرة الاحرام کہے تو نماز باطل ہے۔

قیام

مسئلہ٢١٤:تکبیرة الاحرام کہتے وقت کا قیام اور رکوع سے پہلے کا قیام جسکو قیام متصل با رکوع کہتے ہیں رکن ہے لیکن حمد و سورہ پڑھتے وقت کا قیام اور رکوع کے بعد کا قیام رکن نہیں ہے تو اگر کوئ بھولے سے اسے ترک کردے تو اسکی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ٢١٥:مستحب ہے کہ حالت قیام میں جسم سیدھا رکھے شانوں کو جھکا لے ہاتھوں کو زانؤوں پر رکھے انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملا دے او ر سجدہ گاہ کو دیکھے اور جسم کے بوجھ کو دونوں پیروں پر برابر ڈالے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھے پیروں کو آگے پیچھے نہ رکھے اگر نمازی مرد ہو تو دونوں پیروں کے درمیان تین کھلی ہوئ انگلیوں سے لے کر ایک بالشت تک فاصلہ ہو اور اگر نماز ی عورت ہو تو دونوں پیر وں کو ملا کر کھڑی ہو۔

قرأت

مسئلہ٢١٦:پنجگانہ نمازوں کی پہلی دوسری رکعتوں میں انسان پہلے سورۂ حمد اور پھر ایک مکمل سورہ پڑھے۔

مسئلہ٢١٧:اگر نماز میں عمداً انسان چار سوروں میں سے جن میں آیۂ سجدہ ہے ایک بھی پڑھے تو اسکی نماز باطل ہے اور وہ چار سورے یہ ہیں؛
١.سورۂ الم تنزیل ٢.سورۂ حم سجدہ ٣.سورۂ نجم ٤.سورۂ اقراء؛۔

مسئلہ٢١٨:اگر نماز میں سورۂ قل ھو اللہ احد یا سورۂ قل یا ایّھا الکافرون کے علاوہ کوئ دوسرا سورہ پڑھے تو اگر نصف تک نہیں پہنچا ہو تو اسے چھوڑ کر دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہے۔

مسئلہ٢١٩:مرد پر واجب ہے کہ نماز صبح، مغرب اور عشاء کے حمد و سورہ کو بلند آواز سے پڑھے اور مرد و عورت دونوں پر واجب ہے کہ نماز ظہر و عصر کے حمد و سورہ کو آہستہ پڑھے مگر روز جمعہ کی نماز ظہر میں اختیار ہے۔

مسئلہ٢٢٠:عورت نماز صبح، مغرب و عشاء کے حمد و سورہ کو بلند اور آہستہ دونوں آواز سے پڑھ سکتی ہے لیکن نا محرم اس کی آواز سن رہا ہو تو احتیاط واجب یہ ہے کہ آہستہ پڑھے۔

مسئلہ٢٢١:احتیاط واجب یہ ہے کہ نماز میں وقف بہ حرکت و وصل بہ سکون نہ کرے اور وقف بہ حرکت کے معنیٰ یہ ہیں کہ کلمہ کے آخری حرف کے زیر و زبر یا پیش کو ادا کرے اور اس کلمے اور اسکے بعد والے کلمے کے درمیان فاصلہ دے مثلاً الرّحمٰن الرّحیم کہے اور رحیم کے میم کے زیر کو بھی ادا کرے اور پھر ٹھہر کر مالک یوم الدّین کہے اور وصل بہ سکون کے معنیٰ یہ ہیں کہ کلمے کے آخر ی حرف کے زیر زبر یا پیش کو نہ کہے اور اسکے بعد بلا فاصلہ دوسرا کلمہ ادا کرے۔ مثلاً الرّحمٰن الرّحیم کہے اور رحیم کی میم کو زیر نہ دے اور فوراً مالک یوم الدّین کہے۔

مسئلہ٢٢٢:نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں فقط ایک مرتبہ سورۂ حمد یا ایک مرتبہ تسبیحات اربعہ پڑھ سکتا ہے،اور تسبیحات اربعہ یہ ہے ’’سُبحٰانَ اللّٰہِ وَالُحمدُلِلّٰہِ وَلاٰاِلٰہَ اِلاَّاللّٰہُ واللّٰہ اَکُبَرُ‘‘لیکن تین مرتبہ پڑھنا مستحب ہے۔

رکوع

مسئلہ٢٢٣:ہر رکعت میں قرأت ختم کرنے کے بعد اتنا جھکے کہ ہاتھ گٹھنے پر رکھ سکے اور اس امر کو رکوع کہتے ہیں۔

مسئلہ٢٢٤:احتیاط واجب یہ ہے کہ رکوع میں تین مرتبہ؛’’سبحان اﷲ‘‘یا ایک مرتبہ’’سبحان ربّی العظیم وبحمدہ‘‘کہے دوسرے ذکر بھی اتنی ہی مقدار میں پڑھنا کافی ہے اور وقت کم ہونے کی صورت میں یا مجبوری کی حالت میں ایک مرتبہ’’سبحان اﷲ‘‘ کہنا کافی ہے۔

مسئلہ٢٢٥:اگر رکوع میں جانے سے پہلے اور جسم کے ساکن ہونے سے پہلے عمداً ذکر رکوع پڑھ دے تو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ٢٢٦:اگر ذکر واجب ختم ہونے سے پہلے عمداً رکوع سے سر اٹھالے تو ا س کی نماز باطل ہے اور اگر سہواً سر اٹھالے تو اگر رکوع کی حالت سے خارج ہونے سے پہلے اسے یاد آجاۓ کہ اس نے ذکر رکوع پورا نہیں کیا تو جسم کے ساکن ہونے کی حالت میں دوبارہ ذکر پڑھے اور اگر رکوع کی حالت سے خارج ہونے کے بعد یاد آۓ تو اسکی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ٢٢٧:ذکر رکوع ختم ہونے کے بعد سیدھا کھڑا ہو جاۓ اور جب جسم ساکن ہو جاۓ تو سجدے میں جاۓ اور اگر عمداً کھڑے ہونے سے پہلے سجدے میں چلا جاۓ تو نماز باطل ہے۔

سجود

مسئلہ٢٢٨:نماز پڑھنے والے کو واجب اور مستحب نماز وں کی ہر رکعت میں رکوع کے بعد دو سجدے بجا لاۓ اور سجدہ یہ ہے کہ پیشانی، دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤوں کے انگوٹھے کو زمین پر رکھے۔

مسئلہ٢٢٩:اگر عمداً ایک سجدہ کم یا زیادہ کر دے تو نماز باطل ہو جاۓ گی اور اگر سہواً ایک سجدہ کم ہو جاۓ تو اسکا حکم آگے بیان ہو گا۔

مسئلہ٢٣٠:احتیاط واجب یہ ہے کہ سجدے میں تین مرتبہ’’سبحان اﷲ‘‘یا ایک مرتبہ’’سبحان ربّی الاعلیٰ وبحمدہ‘‘ لیکن ان کلمات کو ایک دوسرے کے بعد اور صحیح عربی میں کہنا چاہیۓ اور مستحب ہے کہ’’سبحان ربّی اعلیٰ وبحمدہ‘‘ کو تین یا پانچ یا سات مرتبہ کہے۔

مسئلہ٢٣١:ذکر سجدہ پڑھنے کی حالت میں اگر ساتوں اعضاء میں سے کسی ایک کو عمداً زمین سے اٹھالے تو اس کی نماز باطل ہے لیکن اگر ذکر سجدہ پڑھنے میں مشغول نہ ہو تو اگر پیشانی کے علاوہ کوئ دوسرا عضوۓ سجدہ زمین سے اٹھالے اور پھر رکھ دے تو کوئ حرج نہیں ہے۔

مسئلہ٢٣٢:اگر ذکر سجدہ ختم ہونے سے پہلے سہواً پیشانی زمین سے اٹھالے تو دوبارہ زمین پر نہیں رکھ سکتا اور اسی کو ایک سجدہ شمار کرے لیکن دوسرے اعضاء کو سہواً زمین سے اٹھا لے تو دوبارہ بھی زمین پر رکھ کر ذکر کر سکتا ہے۔

مسئلہ٢٣٣:نماز پڑھنے والے کی پیشانی کی جگہ اس کے پاؤں کی انگلیوں کی جگہ سے چار بندھی ہوانگلیوں سے زیادہ اونچی نہ ہو بلکہ اقویٰ یہ ہے کہ اسکی پیشانی کی جگہ پاؤں کی انگلیوں اور گھٹنوں کی جگہ سے چار بندھی ہوئ انگلیوں سے نیچی نہ ہو۔

مسئلہ٢٣٤:پیشانی اور وہ چیز جس پر سجدہ کیا جاتا ہے دونوں چیزوں کے درمیان کوئ چیز حائل نہ ہو اگر سجدہ گاہ پر اتنا میل ہو کہ پیشانی سجدہ گاہ سے متصل نہ ہوتی ہو تو نماز باطل ہے لیکن اگر سجدہ گاہ کا رنگ بدل گیا ہو تو کوئ حرج نہیں ہے۔

مسئلہ٢٣٥:سجدے کی حالت میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے لیکن مجبوری کی حالت میں ہتھیلیوں کی پشت کو بھی رکھ سکتا ہے۔اور اگر شت رکھنا ممکن نہ ہو تو کہنی تک جو حصّہ بھی رکھ سکتا ہو رکھے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو بازو کا رکھنا کافی ہے۔

مسئلہ٢٣٦:سجدہ میں دونوں پیروں کے انگو ٹھوں کو زمین پر رکھے اور اگر پیر کی دوسری انگلیوں کو یا پاؤوں کے اوپر کے حصّے کو زمین پر رکھے یا ناخن کے لمبے ہونے کی وجہ سے انگوٹھا زمین پر نہ پہنچے تو نماز باطل ہے اور جس شخص نے مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھی ہوں تو احتیاط واجب کی بنا پر نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ٢٣٧:اگر بھرے ہو گدّے (توشک) یا ایسی چیز پر کہ جس پر جسم ساکن نہ رہ سکتا ہو سجدے کرے تو نماز باطل ہے۔

وہ چیزیں جن پر سجدہ صحیح ہے

زمین اور وہ چیزیں جو زمین سے اگتی ہیں لیکن انہیں کھایا نہیں جاتا جیسے لکڑی، پتّے وغیرہ ان پر سجدہ کرے اور کھانے، پینے والی اور معدنی چیزوں پر سجدہ صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ٢٣٨:وہ چیزیں جو زمین سے اگتی ہیں اور جانوروں کی خوراک ہیں جیسے گھاس پھونس وغیرہ پر سجدہ کرنا صحیح ہے۔

مسئلہ٢٣٩:اگر کاغذ کو ایسی چیز سے بنایا گیا ہو جیسے گھاس پھونس وغیرہ تو اس پر سجدہ کرنا صحیح ہے بلکہ ایسے کاغذ پر جو روئ وغیرہ سے بنایا گیا ہو اس پر سجدہ کیا جاسکتا ہے۔

مسئلہ٢٤٠:سجدے کے لۓ سب سے بہتر چیز حضرت امام حُسین علیہ السلام کی تربت ہے اس کے بعد مٹّی، پھر پتھر، پھر گھاس وغیرہ ہیں۔

مسئلہ٢٤١:خداوند متعال کے علاوہ کسی دوسرے کے لۓ سجدہ کرنا حرام ہے اور بعض عوام النّاس جو کہ أئمہ علیہم السلام کے قبور کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دیتے ہیں اگر یہ سجدہ شکر خدا کے لۓ ہو تو کوئ حرج نہیں ہے ورنہ حرام ہے۔

قرآن کے واجب سجدے

قرآن کے چار سوروں میں ایک ایک سجدہ کی آیت ہے۔
١.سورۂ والنّجم ٢.سورۂ اقراء ٣.سورۂ الم تنزیل ٤.سورۂ حم سجدہ اگر انسان اس آیت سجدہ کو پڑھے یا سنے تو آیت کے ختم ہونے کے بعد فوراً سجدہ کرے اور اگر بھول جاۓ تو یاد آتے ہی سجدہ بجا لاۓ۔

مسئلہ٢٤٢:احتیاط واجب یہ ہے کہ پیشانی قرآن کے واجب سجدہ کی حالت میں سجدہ گاہ یا کسی ایسی چیز پر ہو جس پر سجدہ صحیح ہے اور بدن کے دوسرے اعضاء جنکا طریقہ نماز کے سجدہ میں بیان ہو چکا ہے زمین پر رکھے۔
مسئلہ٢٤٣:اگر قرآن کے واجب سجدے میں قصد سجدہ سے پیشانی زمین پر رکھدے تو کافی ہے اگر چہ ذکر بھی نہ پڑھے اور ذکر پڑھنا مستحب ہے اور بہتر ہے کہ یہ دعا پڑھے؛’’لاٰ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ حَقَّاًحَقَّاًلاٰاِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ اِیمٰانَاً وَتَصُدِیقَاً لاٰ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ عُبُودِیَّتاً وَرِقَّاً سَجَدُتُّ لَکَ یٰارَبِّ تَعَبُّدَاً وَرَقَّاً لاٰ مُسُتَنُکِفَاً وَلاٰ مُسُتَکُبِرَاً بَلُ أَنٰا عَبُدٌ ذَلِیُلٌ ضَعِیُفٌ خٰائِفٌ مُسُتَجِیرٌ ‘‘۔

تشہد

مسئلہ٢٤٤:ہر واجب نماز کی دوسری رکعت اور مغرب کی تیسری رکعت اور نماز ظہر و عصر و عشاء کی چوتھی رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد بیٹھے اور جسم کے ساکن ہونے کے بعد تشہد پڑھے؛’’اَشُھَدُ اَنُ لاٰ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲ ُ وَحُدہُ لاٰ شَرِیُکَ لَہُ وَاَشُھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ عَبُدُہُ وَرَسُولُہُ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ‘‘۔

سلام

مسئلہ٢٤٥:نماز کی آخری رکعت میں مستحب ہے بیٹھے ہوۓ اور جسم کے سکون کے ساتھ یہ کہے؛’’السلام علیک ایھاالنبی و رحمت اﷲ وبرکاتُہُ‘‘اسکے بعد احتیاط واجب کی بنا پر(السلام علیکم)کو(و رحمت اﷲ وبرکاتہ)کے اضافے کے ساتھ کہنا چاہیے۔یا’’السلام علینا وعلیٰ عباداﷲ الصالحین‘‘کہے لیکن اگر اس سلام کو پڑھا ہے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے بعد’’السلام علیکم و رحمت اﷲوبرکاتہ‘‘ بھی کہے۔

ترتیب

مسئلہ٢٤٦:اگر عمداً نماز کی ترتیب کو بدل دے مثلاً سورہ کو حمد سے پہلے پڑھے یا رکوع سے پہلے سجدہ بجا لاۓ تو نماز باطل ہے۔

موالات

مسئلہ٢٤٧:انسان نماز کو موالات کے ساتھ پڑھے یعنی نماز کے امور، رکوع، سجود وغیرہ کو ایک دوسرے کے بعد پے در پے بجا لاۓ اور جو چیزیں نماز میں پڑھ رہا ہے انہیں ایک دوسرے کے بعد بلا فاصلہ پڑھے اور اگر ان کے درمیان اتنا فاصلہ دیدے کہ یہ نہ کہا جاۓ کہ نماز پڑھ رہا ہے تو اس کہ نماز باطل