مسئلہ٢٧:نجاسات گیارہ ہیں۔ ١۔پیشاب ٢۔پاخانہ ٣۔منی ٤۔مردار ٥۔خون ٦۔کتّا ٧۔سور ٨۔کافر ٩۔شراب١٠۔فقاع ١١۔نجاست خور حیوان کا پسینہ۔ ١۔٢۔ پیشاب اور پاخانہ
مسئلہ٢٨:انسان اور ہر حرام گوشت جانور جو خون جہندہ رکھتا ہو یعنی اس کو اگر ذبح
کریں تو اس کا خون اچھل کر نکلے اسکا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے اور خون جہندہ نہ
رکھنے والے حرام گوشت حیوانوں کا پیشاب اور پاخانہ پاک ہے۔ مسئلہ٣١:خون جہندہ رکھنے والے ہر حیوان کی منی نجس ہے۔
مسئلہ٣٢:خون جہندہ رکھنے والے جانور کا مردار نجس ہے، چاہے وہ خود مر گیاہو یااسے
غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو، اور مچھلی چونکہ خون جہندہ نہیں رکھتی اس لۓ اگر
پانی ہی میں مرجاۓ جب بھی پاک ہے۔
مسئلہ٣٤:انسان اور ہر اس حیوان کا کہ جو خون جہندہ رکھتا ہو خون نجس ہے۔
مسئلہ٣٦:خشکی میں رہنے والے کُتّے اور سُوَر نجس ہیں یہاں تک کہ ان کے بال، ہڈیاں، پنجے، ناخن، اور ان کی رطوبتیں بھی نجس ہیں لیکن دریائ کُتّے اور سُوَر پاک ہیں۔
مسئلہ٣٧:کافریعنی وہ شخص جو منکر خدا ہے یا خدا کے شریک کا قائل ہے، یا پیغمبر
اسلام صلّی اﷲ علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت کا اقرار نہیں کرتا تو وہ نجس ہے اور اسی
طرح وہ شخص جو ضروریات دین جیسے نماز، روزہ، وغیرہ میں سے کسی ایک کا منکر ہو اور
یہ بھی جانتا ہو کہ یہ ضروریات دین میں سے ہیں نجس ہے۔
مسئلہ٤٠:شراب اور ہر وہ چیز جو انسان کو مست کر دیتی ہو اگر وہ بذات خود بہنے والی
چیزوں میں سے ہو تو نجس ہے لیکن اگر وہ چیز بھنگ اور حشیش کی طرح بہنے والی نہ ہو
اگر چہ دوسری چیزمیں ملا کر سیّال بنادیاجاۓ تو وہ پاک ہو گی۔
مسئلہ٤٣:قول اقویٰ کی بِنا پر نجاست خور اونٹ کے پسینے سے اور احتیاط واجب کی بِنا پر ہر اس حیوان کے پسینے سے جو انسان کی نجاست کھانے کا عادی ہے اجتناب کرنا چاہیۓ۔
مسئلہ٤٤:اقویٰ یہ ہے کہ حرام طریقے سے مجنب ہونے والے کا پسینہ پاک ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیاجاۓ، اگرچہ اس لباس میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔
مسئلہ٤٥:ہر چیز کی نجاست تین طریقوں سے ثابت ہو تی ہے۔اوّل یہ کہ خود انسان کو
نجاست کا یقین ہو، دوسرے یہ کہ جو چیز جس کے قبضے میں ہے وہ کہے کہ یہ چیز نجس ہے،
تیسرے یہ کہ دو مرد عادل کہیں کہ فلاں چیز نجس ہے۔
مسئلہ٤٦:قرآن کے حروف اور اوراق کو نجس کرنا حرام ہے اور اگر نجس ہو جاۓ تو اسے
فوراً پاک کرنا چاہیۓ۔
|