بسم الله الرحمن الرحيم

 

الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام على خير خلقه محمد و آله الطاهرين و لعنة الله على اعدائهم اجمعين الى يوم الدين.

پانی کے احکام


کُر پانی قلیل پانی جاری پانی
بارش کا پانی کنویں کا پانی مضاف پانی


مسئلہ٧:پانی کی دو قسمیں ہیں مطلق اور مضاف۔

مضاف

مضاف؛ وہ پانی جو کسی چیزسے حاصل کیا جاۓ، جیسے تربوز اور گلاب کا پانی، یا کسی چیزکے ساتھ اس طرح مل جاۓ کہ پھر اسکو پانی نہ کہہ سکیں، جیسے وہ پانی جو مٹی وغیرہ کے ساتھ مل گیا ہو۔

مطلق

مطلق؛ وہ پانی ہے جو کسی چیزسے حاصل نہ کیا گیا ہو اور کوئ چیز اس میں حل نہ ہوئ ہو، اور جسے صرف پانی کہا جاۓ۔ مطلق پانی کی پانچ قسمیں ہیں؛١۔کر پانی ٢۔قلیل پانی ٣۔جاری پانی ٤۔بارش کا پانی ٥۔کنویں کا پانی

کُر پانی

مسئلہ٨:کر پانی کی مقدار یہ ہے کہ اگر کسی ایسے برتن میں کہ جس کی لمبائ، چوڑائ اور گہرائ ہر ایک ساڑھے تین٢/١۔٣بالشت ہو ڈالیں تو یہ برتن بھر جاۓ اور وزن کے اعتبار سے معیار بیس مثقال کم ایک سو اٹھائس من ِ تبریزی ہے اور کلو کے اعتبار سے دو سو سترہ مثقال صیرفی ہے جو ساڑھے سترہ مثقال کم تین سو ساڑھے ستّر کلو گرام ہو تا ہے۔
مسئلہ٩:اگر آب کر کی بو نجاست کے علاوہ کسی دوسری چیز سے تبدیل ہو جاۓ تو وہ نجس نہیں ہو گا۔
مسئلہ١٠:اگر کوئ عین نجس جیسے خون کُر سے زیادہ پانی میں گر جاۓ اور اس کے کچھ حصّے کو متغیّر کردے تو اس کی وہ مقدار جو متغیّر نہیں ہوئ ہے اگر کُر سے کم ہے تو سارا پانی نجس ہو جاۓ گا اور اگر کُر کے برابر یا کُر سے زیادہ ہے تو فقط وہ مقدار نجس ہو گی جس کا رنگ، بو یا مزہ متغیّر ہواہے۔
مسئلہ١١:اگر آب کُر کا کچھ حصّہ برف بن جاۓ اور باقی کُر کی مقدار سے کم ہو تو نجاست کی وجہ سے نجس ہو جاۓ گا اور جیسے جیسے برف پگھلتی جاۓ گی پانی نجس ہو تا جاۓ گا۔
مسئلہ١٢:اگر پہلے پانی کُر کی مقدار کے برابر تھا اور انسان شک کرے کہ کُر سے کم ہو ا ہے یا نہیں تو اسے کُر کے برابر ہی سمجھا جاۓ گا،اور اسی طرح وہ کر پانی جو پہلے کُر سے کم تھا اور اب کوئ شخص شک کر ے کہ کُر کے برابر ہو گیا یا نہیں تو اسے کُر نہیں سمجھا جاۓ گا۔
مسئلہ١٣:پانی کا کُر کی مقدار ہونا تین طریقوں سے ثابت ہو تا ہے۔
١۔خود انسان کو یقین پیدا ہو جاۓ، ٢۔دو عادل خبر دیں،٣۔یاجس کے پاس پانی ہے وہ اس کے کُر ہونے کی خبر دے،جیسے حمام کا مالک یہ کہے کہ حمام کے حوض کا پانی کُر کے برابر ہے۔

قلیل پانی

مسئلہ١٤:قلیل پانی سے مراد وہ پانی ہے جو زمین سے نہ نکلے اور کُر سے بھی کم ہو۔
مسئلہ١٥:قلیل پانی کو نجس چیز پر ڈالا جاۓ یا نجس چیز اس سے متصل ہو جاۓ تو وہ نجس ہو جاۓ گا لیکن اگر کسی نجس چیز پر اوپر سے ڈالا جاۓ تو اس صورت میں پانی کی وہ مقدار جو نجاست سے مل چکی ہے نجس ہے اور جو اوپر ہے وہ پاک ہے۔

جاری پانی

مسئلہ١٦:جاری پانی وہ ہے جو زمین سے پھوٹے اور زمین پر بہہ نکلے جیسے چشمہ یانہر کا پانی۔
مسئلہ١٧:جاری پانی اگر چہ کُر سے کم ہی کیوں نہ ہو اس وقت تک نجس نہیں ہو گا جب تک اس کا رنگ یا بو یا ذائقہ نجاست کی وجہ سے تبدیل نہ ہو جاۓ۔
مسئلہ١٨:حمام اور گھروں کا پانی اگر کُر سے متّصل ہو تو جاری پانی کے حکم میں ہے۔

بارش کا پانی

مسئلہ١٩:ہر وہ نجس چیز جس میں عین نجاست نہ ہو اور اس پر ایک مرتبہ پانی برس جاۓ تو جہاں جہاں پانی پہنچے گا وہاں تک پاک ہو جاۓ گا، ایسی صورت میں فرش و لباس کا نچوڑنا بھی ضروری نہیں ہے،لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ بارش اتنی مقدار میں ہو کہ زمین پر پانی بہہ نکلے۔
مسئلہ٢٠:نجس زمین بارش کی وجہ سے پاک ہو جاۓ گی۔
مسئلہ٢١:اگر نجس مٹی بارش کی وجہ سے کیچڑ ہو جاۓ تو پاک ہو جاۓ گی۔
مسئلہ٢٢:اگر ایسے پاک فرش پر بارش ہو جس کے نیچے کی زمین نجس ہے اور بارش کا پانی نجس زمین پر بہہ جاۓ تو فرش نجس نہیں ہو گا بلکہ زمین بھی پاک ہو جاۓ گی۔

کنویں کا پانی

مسئلہ٢٣:وہ کنواں جس کا پانی زمین سے ابلتا ہے اگر چہ کُر سے کم ہی کیوں نہ ہو تو اگر اس میں نجاست گر جاۓ تو اس وقت تک نجس نہیں ہو گا جب تک نجاست کی وجہ سے رنگ، بو یاذائقہ نہ بدلے۔
مسئلہ٢٤:اگر کسی گڑھے میں بارش وغیرہ کا پانی جمع ہو جاۓ اور کُر سے کم ہو تو نجاست گرنے سے نجس ہو جاۓ گا۔

مضاف پانی

مسئلہ٢٥:مضاف پانی کسی نجس چیز کو پاک نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس سے وضو اور غسل کیا جا سکتا ہے۔
مسئلہ٢٦:جس پانی کے مطلق یا مضاف ہونے کا علم نہ ہواور یہ بھی علم نہ ہو کہ وہ پہلے مطلق تھا یا مضاف تھاتو وہ نجس چیزپاک نہیں کرے گا اور اس سے غسل کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔