|
مسئلہ٣٣١:یہ لازم نہیں ہے کہ انسان روزہ کی نیّت کو اپنے دل میں کرے مثلاً یہ کہے کہ میں کل روزہ رکھونگا بلکہ اس قدر کافی ہے کہ خداوند عالم کے حکم کو بجالانے صبح کی آذان سے مغرب تک جو کام روزہ کو باطل کردیتے ہیں انجام نہ دے تو کافی ہے اور یہ یقین کرے کہ انسان اس تمام مدّت میں روزہ سے تھا اور صبح کی آذ ان سے کچھ پہلے اور مغرب کی آذان سے کچھ بعد میں جو امور روزہ کو باطل کردیتے ہیں ان سے اجتناب کرے۔ مسئلہ٣٣٢:ماہ رمضان کے روزہ کی نیّت کا وقت اوّل شب سے صبح کی آذان تک ہے۔ مسئلہ٣٣٣:انسان ماہ رمضان کی ہر شب میں اگلے دن کے روزہ کے لۓ نیّت کر سکتا ہے اور بہتر یہ ہے کہ ماہ رمضان کی پہلی شب میں تمام مہینے کے روزوں کی نیّت کرے۔ مسئلہ٣٣٤:جو شخص صبح کی آذان سے پہلے روزہ کی نیّت کیے بغیر سوجاۓ اور ظہر سے پہلے بیدار ہو جاۓ اور روزہ کی نیّت کرے تو اس کا روزہ صحیح ہے چاہے اس کا روزہ واجب ہو یا مستحب اور اگر وہ ظہر کے بعد ہو تو واجب روزے کی نیّت نہیں کرسکتا۔
اگر روزے دار کوئ چیز جان کر کھاۓ یا پیۓ تو اس کاروزہ باطل ہے چاہے اس چیز کا کھانا اور پینا معمول کے مطابق ہو جیسے روٹی اور پانی اور چاہے اس چیز کا کھا نا اور پینا معمول کے مطابق نہ ہو جیسے مٹّی اور درخت کا دودھ اور چاہے کم ہو یا زیادہ حتّیٰ کہ اگر مسواک کو منھ سے باہر لاۓ اور اس کو دوبارہ منھ میں لے جاۓ اور اس کی رطوبت کو نگل جاۓ تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا مگر یہ کہ مسواک کی رطوبت لعاب دہن میں اس طرح گھل جاۓ کہ جس کو خارج کی رطوبت نہ کہا جاۓ۔ مسئلہ٣٣٦:احتیاط واجب یہ ہے کہ روزے دار اس انجکشن کے استعمال سے کہ جسکو غذا کے بدلے لگایا جاتا ہے اجتناب کرے لیکن وہ غذائ انجکشن جو عضوۓ انسانی کو بے حس کرتا ہے اس میں کوئ اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ٣٣٧:جماع اور مباشرت روزہ کو باطل کرتا ہے اگر چہ فقط ختنہ گاہ کے مقدار کے مطابق دخول ہو اور منی بھی باہر نہ آئ ہو۔
مسئلہ٣٣٨:اگر روزہ دار استمناء کرے یعنی خود ایسا کام کرے کہ منی باہر نکل آۓ تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا۔ مسئلہ٣٣٩:اگر کوئ شخص منی باہر نکالنے کے قصد سے کسی سے کھیل کو د یا مذاق کرے اگر چہ منی باہر نہ نکلے روزہ باطل ہو جاۓ گا۔
مسئلہ٣٤٠:اگر روزہ دار کہنے ، لکھنے ،یا اشارے وغیرہ سے خداوند عالم اور رسول خدا صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم پر جان بوجھ کر جھوٹی نسبت دے اگر چہ فوراً یہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا ہے یا توبہ کرے تواس کا روزہ باطل ہے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا اور أئمہ طاہرین علیہم السلام اور دوسرے پیغمبروں علیٰ نبیّنا و علیہم السلام اور ان کے جانشینوں رحمہم اﷲ پر بھی جھوٹ کی نسبت نہ دے۔ مسئلہ٣٤١:اگر جھوٹ کسی دوسرے شخص نے بنایا ہو اور اس کو جان کر خداوند عالم اور رسول صلّی اﷲعلیہ وآلہ وسلّم اور آپ کے جانشینوں کی طرف نسبت دے تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا لیکن اگر کوئ شخص اس شخص کے قول کو نقل کرے کہ جس نے جھوٹ خود گھڑا ہو تو اس میں کوئ اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ٣٤٢:اگر کوئ شخص غلیظ غبار کو اپنے حلق میں پہنچاۓ تو اسکا روزہ باطل ہو جاۓ گا چاہے وہ غبار ایسی چیز کا ہو جس کا کھانا قول احوط کی بنا پر حلال ہو جیسے آٹا یا ایسی چیز کا غبار ہو کہ جسکا کھانا حرام ہو جیسے مٹّی خاک وغیرہ۔اور حتیاط واجب یہ ہے کہ جو غبار غلیظ بھی نہ ہو اسکو بھی اپنے حلق میں نہ پہنچاۓ۔ مسئلہ٣٤٣:احتیاط واجب یہ ہے کہ روزہ دار تمباکو، بیڑی، سگریٹ اور گاڑھے دھویں کو حلق تک نہ پہنچاۓ۔
مسئلہ٣٤٤:اگر روزہ دار جان بوجھ کر تمام سر کو پانی میں ڈبوۓ اگر چہ اس کاباقی بد ن پا نی سے باہر ہو تو اسکا روزہ باطل ہو جاۓ گا لیکن اگر انسان کا تمام بدن پانی میں ڈوب جاۓ اور سر کا کچھ حصہ باہر ہو تو اس کا روزہ باطل نہ ہو گا اگر ممکن ہو تو اپنے بدن کو باہر نکال لے۔ مسئلہ٣٤٥:اگر بھول جاۓ کہ روزہ ہے اور وہ غسل کی نیّت سے اپنے تمام سر کو پانی میں ڈال دے تو اس کا روزہ اور غسل دونوں صحیح ہیں۔
مسئلہ٣٤٦:اگر مجنب شخص جان کر صبح کی آذان تک غسل نہ کرے یا اگر اس کا فریضہ تیمم کرنا ہو اور وہ جان کر تیمم نہ کرے تو اس کا رو زہ چاہے ماہ رمضان میں ہو یا اسکی قضاء ہو باطل ہے کیونکہ واجب معیّن میں احوط وجوبی اسکا باطل ہونا ہے لیکن واجب موسّع اور مستحب روزہ میں باطل نہیں ہے اگر چہ احوط استحبابی یہ ہے کہ غسل یا تیمم کو صبح سے پہلے کرلے۔ مسئلہ٣٤٧:جو شخص ماہ رمضان المبارک کی شب میں مجنب ہو جاۓ اور وہ یہ جان لے کہ اگر سو جاۓ گا تو صبح تک بیدار نہیں ہو گا تو اسکو سونا نہیں چاہیۓ اور اگر وہ سو جاۓ اور صبح تک بیدار نہ ہو تو اسکا روزہ باطل ہے اور اس پر قضاء و کفّارہ بھی واجب ہو جاۓ گا۔ مسئلہ٣٤٨:جو شخص ماہ رمضان کی رات میں مجنب ہو جاۓ اور وہ جانتا ہو کہ اگر وہ سو جاۓ گا توصبح کی آذان سے پہلے بیدار ہو جاۓ گا اور وہ یہ قصد بھی رکھتا ہو کہ بیدار ہونے کے بعد غسل کرے گا اور وہ اس ارادہ سے سوجاۓ مگر آذان کے وقت تک سوتا رہے تو اسکا روزہ صحیح ہے۔ مسئلہ٣٤٩:اگر عورت صبح کی آذان سے پہلے حیض سے پاک ہو جاۓ اور وہ جان کر غسل نہ کرے یا اگر اس کا فریضہ تیمم ہو اور وہ جان کر تیمم نہ کرے تو اس کا روزہ باطل ہے۔ماہ رمضان کا روزہ ہو یا اسکی قضاء ہو اور ہر معیّن روزہ میں احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کا روزہ باطل ہے اور علی الاحوط نفاس کا حکم حیض کی مانند ہے۔ مسئلہ٣٥٠:اگر عورت حیض و نفاس کے غسل کو بھول جاۓ اور اس کو ایک
دن کے بعد یا چند دنوں کے بعد یاد آجاۓ تو جو روزے اسنے رکھے ہیں و ہ صحیح ہیں۔
مسئلہ١٥٣:رواں اور بہنے والی چیزوں سے امالہ کرنا اگر چہ مجبوری یا کسی بیماری کے معالجہ ہی کے لۓ کیوں نہ ہو روزہ کو باطل کردیتا ہے۔
مسئلہ ٣٥٢:جب بھی روزے دار جان کر قے کرے اگر چہ بیماری وغیرہ سے مجبور ہو تو اس کا روزہ باطل ہو جاۓ گا لیکن کفّارہ نہیں ہے اگر سہواً یا بے اختیار قے کرے تو اس میں کوئ اشکال نہیں ہے۔ مسئلہ٣٥٣:اگر روزہ دار کے گلے میں مکھّی چلی جاۓ اگر ممکن ہو تو اس کو باہر نکال دے تو اس کا روزہ باطل نہیں ہوگا لیکن اگر یہ جان لے کہ اس کے باہر نکالنے سے قے آجاۓ گی تو اس کا باہر نکالنا واجب نہیں ہے اور اسکا روزہ صحیح ہے۔
مسئلہ٣٥٤:جس شخص پر ماہ رمضان کے روزے کا کفارہ واجب ہو تو اس کو ایک غلام آزاد کرنا چاہیۓ یا اس حکم پر جو بعد کے مسئلہ میں بیان کیا جاۓ گا دو مہینے روزے رکھے یا ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلاۓ یا ان میں سے ہر ایک کو تین پاؤ کھانا دے یا کوئ جنس دے جیسے گیہوں،جو وغیرہ اور اگر یہ مذکورہ اشیاء نہیں دے سکتا ہو تو جس قدر ہو سکے فقیر کو کھانا دے اور اگر یہ بھی نہیں دے سکتا ہو تو روزہ رکھے اور اسکو استغفار کرنا چاہیۓ اگر چہ ایک مرتبہ استغفراﷲ کہے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ جب بھی ہو سکتا ہو کفارہ ادا کرے۔ مسئلہ٣٥٥:جو شخص ماہ رمضان کے کفارے کے دو مہینوں کے روزے رکھنا چاہے تو اسے چاہیۓ کہ اکتیس/٣١دن برابر روزے رکھے ۔اور اگر باقی روزے پے در پے نہ رکھ سکتا ہو تو کوئ اشکال نہیں۔ مسئلہ٣٥٦:اگر روزہ دار ماہ رمضان میں ایک دن میں چند مرتبہ جماع کرے تو ایک کفّارہ اس پر واجب ہے لیکن اگر اس کا جماع کرنا حرام ہو تو ہر مرتبہ کے لۓ اس پر کفّارہ ٔ جماع واجب ہو گا۔ مسئلہ٣٥٧:جو شخص وقت کو تشخیص دے سکتا ہو اگر کسی کے کہنے کے
مطابق کہ مغرب ہو گئ ہے اپنے روزے کو افطار کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ مغرب نہیں
ہوئ تھی اس پر قضاء اور کفّارہ واجب ہے۔
مسئلہ٣٥٨:چند صورتوں میں فقط انسان پر روزے کی قضاء واجب ہے اور
کفّارہ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ٣٥٩:اگر کوئ شخص کسی بیماری کی وجہ سے ماہ رمضان کا روزہ نہ رکھے اور اس کی بیماری آئندہ سال تک باقی رہے تو اس نے جو روزے نہیں رکھے ہیں ان کی قضاء اس پر واجب نہیں ہے اور روزانہ ہر روز کے روزے کے عوض ایک مُد طعام یعنی تین پاؤ گندم یا جو یا روٹی یا کھانا یا کشمش یا کھجور وغیرہ فقیر کو دے لیکن اگر کسی دوسرے عذر کی بنا پر مثلاً مسافرت کی وجہ سے اس نے روزہ نہیں رکھا ہو اور اس کا عذر آئندہ رمضان تک باقی رہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ جو روزے اس نے نہیں رکھے ہیں ان کی قضاء کرے اور روزانہ ایک مُدطعام (کھانا) فقیر کو دے۔ مسئلہ٣٦٠:اگر کوئ شخص ماہ رمضان کے روزہ کو جان کر نہ رکھے تو ان کی قضاء بجا لاۓ اور ہر روزے کے بدلے دو مہینے کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں اور فقیروں کو کھانا کھلاۓ یا ایک غلام آزاد کرے اور اگر آئندہ رمضان تک اس روزہ کی قضاء بجا نہ لاۓ تو روزانہ کے کفّارے کے علاوہ ایک مُدطعام دینا لازم ہے اور اس روزہ کی قضاء کرنا بھی واجب ہے۔
مسئلہ٣٦١:وہ مسافر جو چار رکعتی نماز وں کو سفر کی حالت میں دو رکعت پڑھتا ہو تو اسکو روزہ نہیں رکھنا چاہیۓ اوراگر مسافر نماز کو پوری پڑھتا ہو تو جیسے کسی کا پیشہ مسافر ت ہو یا اسکا سفر معصیت و گناہ کا سفر ہو تو اس کو سفر میں روزہ رکھنا چاہیۓ۔ مسئلہ٣٦٢:اگر روزہ دار ظہر کے بعد سفر کرے تو اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہیۓ اور اگر وہ ظہر سے پہلے سفر کرے تو جب وہ حدّ ترخص پر پہنچ جاۓ یعنی اس جگہ پہنچ جاۓ کہ جہاں شہر کی دیواریں دکھائ نہیں دیتی ہوں اور آذان کی آواز سنائ نہ دے تو وہ اپنا روزہ افطار کر لے اور اگر اس سے پہلے روزہ افطارکر لے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ کفّارہ دے۔
مسئلہ٣٦٣:اگر انسان کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس کی وجہ سے جلد پیاسا ہو جاۓ یہاں تک کہ تشنگی برداشت کرنا اس کے لۓ مشقت کا باعث ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے لہذا اس کو چاہیۓ روزانہ ایک مُد جو یا گندم یا نان یا کشمش یا کھجور وغیرہ فقیر کو دے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مجبوری کی مقدار سے زیادہ پانی نہ پیۓ اور اس کے بعد روزہ رکھے اور جن روزوں کو اس نے نہیں رکھا ہے ان کی قضاء بجا لاۓ۔ مسئلہ٣٦٤:جس عورت کی زچگی قریب ہو اور اسکے لۓ اور اس کے حمل کے لۓ روزہ رکھنا مضر ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں ہے اور روزانہ ایک مُد جو یا گندم یا کشمش یا کھجور وغیرہ فقیر کو دے اور جو روزے اس نے نہیں رکھے ہیں ان کی قضاء کرے۔
مسئلہ٣٦٥:چاند کی پہلی تاریخ پانچ طریقوں سے ثابت ہوتی ہے۔ ١.یہ کہ انسان خود چاند دیکھے ٢.یہ کہ کچھ لوگوں کی جماعت کہے کہ ہم نے چاند دیکھا ہے اور انسان کو ان کے کہنے سے یقین پیدا ہو جاۓ۔ ٣.دو عادل افراد کہیں۔ ٤.ماہ شعبان کے تیس/٣٠دن پورے ہو جائیں۔ ٥.حاکم شرع حکم کرے کہ چاند کی پہلی تاریخ ہے۔ مسئلہ٣٦٦:اگر حاکم شرع حکم کرے کہ اوّل ماہ ہے تو جو شخص اس کی تقلید بھی نہیں کرتا ہے اس کو اسکے حکم پر عمل کرنا چاہیۓ۔
مسئلہ٣٦٧:عید فطر و عید قربان کی روزہ حرام ہے نیز جس دن کے متعلق انسان نہیں جانتا ہے کہ آخر شعبان ہے یا ماہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے اگرپہلی ماہ رمضان کی نیّت سے روزہ رکھے تو روزہ رکھنا حرام ہے۔ مسئلہ٣٦٨:اگر عورت کے مستحب روزہ رکھنے سے اسکے شوہر کا حق جاتا رہے تو اس کا روزہ حرام ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرشوہر کی حق تلفی بھی نہ ہو تو اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔ مسئلہ٣٦٩:عاشورہ کے دن کا روزہ اور جس کے متعلق انسان شک رکھتا ہو کہ عرفہ کا دن ہے یا عید قربان کا تو اس دن روزہ رکھنا مکروہ ہے۔
|