بسم الله الرحمن الرحيم

 

الحمدلله رب العالمين و الصلوة و السلام على خير خلقه محمد و آله الطاهرين و لعنة الله على اعدائهم اجمعين الى يوم الدين.

احكام تقـليد

مسئلہ١:مسلمان اصول دین میں تقلید نہیں کر سکتا لیکن فروع دین میں یا خود مجتہد ہو یا کسی مجتہد کی تقلید کرے یا احتیاط پر عمل کرے۔
مسئلہ٢:احکام میں تقلید کسی مجتہد کے فتوے کے مطابق عمل کرنے کا نام ہے اور ایسے مجتہد کی تقلیدکرنا چاہیۓ جو مرد، بالغ، عاقل، شیعہ اثناعشری، زندہ، عادل ہو اور احوط یہ ہے کہ حلال زادہ بھی ہو۔
مسئلہ٣: اگر وہ مجتہد جس کی انسان تقلید کرتا ہے انتقال کر جاۓ تو ان مسائل میں جنکو اس سے یاد کیا ہے ان مسائل میں تقلید پر باقی رہ سکتا ہے۔
مسئلہ٤:انسان ایسے مجتہد کی تقلید کرے جو اعلم ہویعنی حکم خدا کو سمجھنے میں اپنے زمانے کے تمام مجتہدین سے ماہر ہو۔
مسئلہ٥:مجتہد اور اعلم کو تین طریقوں سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اوّل یہ کہ انسان کو خود یقین ہو جاۓ مثلاً یہ کہ اہل علم میں سے ہو اور وہ مجتہد اعلم کو پہچان سکتا ہو۔دوسرے یہ کہ دو /٢ عالم عادل کسی کے مجتہد ہونے یااعلم ہونے کی تصدیق کریں بشرطیکہ دوسرے دو /٢ عالم عادل ان دونوں کے قول کی مخالفت نہ کریں۔تیسرے یہ کہ کچھ اہل علم حضرات جو مجتہد یا اعلم کی شناخت کر سکتے ہوں اور ان کے قول پر اطمینان بھی ہو وہ کسی کے مجتہد یا اعلم ہونے کی تصدیق کریں۔
مسئلہ٦:کسی مجتہد کے فتوے کو معلوم کرنے کے چار طریقے ہیں۔اوّل یہ کہ خود مجتہد سے سنے، دوسرے یہ کہ مجتہد کے فتوے کو نقل کرنے والے دو / ٢ عادل اشخاص سے سنے، تیسرے یہ کہ ایسے آدمی سے سنے کہ جس کے قول پر اعتماد ہو، چوتھے یہ کہ کسی مجتہد کے رسالۂ عملیہ(توضیح المسائل)میں دیکھے جبکہ انسان کو اس رسالہ کے صحیح ہونے پر اطمینان بھی ہو۔